مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

طریقے میں چھپا پیغام

کنیائی دانشور نگوگی وا تھیونگو (م:۲۰۲۵ء)، جو خود ایک ایسی ریاست میں قید رہے، جس نے نوآبادیاتی طریقے سیکھ رکھے تھے، اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے۔ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتابWrestling with the Devil: A Prison Memoirمیں انھوں نے لکھا کہ قید صرف سزا نہیں بلکہ ایک ڈرامائی تماشا ہوتی ہے۔ سیاسی قید کا کام ایک ’رسمی علامت‘ کے طور پر ہوتا ہے۔ ریاست قید سے صرف مزاحمتی وجود کو معاشرے سے ختم نہیں کرنا چاہتی، بلکہ وہ اسے اندر سے توڑنا چاہتی ہے اور پھر اس ٹوٹ پھوٹ کی چاروں طرف نمائش کرنا چاہتی ہے۔

اگر نوآبادیاتی ریاست ایسے لوگوں کو جیل میں اپنی جرأت کے برعکس معذرت اور معافیاں مانگتے ہوئے اور اپنے مقصد سے دست بردار ہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے پیش کر سکے، تو حکمران سمجھتے ہیں کہ ہم نے طاقت کے ذریعے قید سے بڑھ کر حاصل کر لیا ہے کہ اس نے ’اعترافِ جرم‘ کر لیا، اور ماضی کے تمام جبر کو جواز فراہم کرکے مستقبل کے لیے بھی راستہ صاف کر دیا ہے۔ ٹوٹا ہوا قیدی پھر ایک ’’اصلاح یافتہ پیغام بر‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یا انسانی ملبے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، تاکہ آنے والے انقلابی دیکھ لیں کہ کوئی بھی اتنا فولادی نہیں کہ یہ سب سہہ سکے۔

عدالت نے خواتین کے لیے سزا میں سختی کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان تینوں خواتین میں اپنے طرزِ عمل پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں ملتا۔ انھیں اپنی جدوجہد پر فخر ہے اور وہ دوبارہ یہی کریں گی۔ عدالت نے اس پختہ ارادے کو ان کے ’خطرناک‘ اور ’ناقابلِ اصلاح‘ ہونے کے ثبوت کے طور پر لیا۔ میری والدہ نہیں ٹوٹیں۔ وہ سبق جو ریاست سکھانا چاہتی تھی، وہ الٹا پڑ گیا۔ اسی لیے ریاست نے وہ آخری حربہ استعمال کیا، جو اس کے پاس تھا: ایک ہی زندگی میں تین بار عمر قید!

گھر میں اُگے ہوئے پودینے کی خوشبو میری والدہ کی خوشبو کی مانند ہے۔ مَیں آج بھی انھیں گھر میں پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں۔ ان کے ہاتھ ہر پتّے کی پرورش کرتے ہوئے نہایت نرم مگر پُرعزم ہوتے تھے۔ ریاست، میری والدہ کو ’موت کا فرشتہ‘ کہتی ہے، کیونکہ وہ اس عزم و ایمان سے مزاحمت کرتی ہیں، جو کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ برسوں کی قید کے بعد بھی وہ کشمیر کی جدوجہد حق خود ارادیت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ میں اپنی والدہ سے ان کی مکمل ہستی، ان کی انسانیت، ان کے جاہ و جلال اور ان کی شفقت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ وہ ظلم کے سامنے آہنی دیوار ہیں، مگر اپنے بچوں، اپنے خاندان، اپنے لوگوں اور ہاں، اپنے پودینے کے پودوں کے لیے بے حد مہربان ہستی ہیں۔ وہ انھیں پیار سے ’میرا پودینہ‘ کہا کرتی تھیں۔

کاش! میری امّی جلد اپنے گھر میں اپنے پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ پودینے کی خوشبو سے رچی فضا میں اپنے ’پودینہ بچوں‘ سے پیار کرکے دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک دے سکیں۔(انگریزی سے ترجمہ: س م خ)