ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
میری والدہ، آسیہ اندرابی!
[احمد بن قاسم | اپریل ۲۰۲۶ | اخبار اُمت] میری والدہ، سیّدہ آسیہ اندرابی کو تین بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جو درحقیقت موت کی سزا کے مترادف ہے۔ یہ سزا ان دفعات کے تحت دی گئی ہے، جنھیں انڈیا کے نافذ کردہ سیاہ ترین قوانین (UAPA) میں شمار کیا جاتا ہے (یہ قانون کشمیر میں عوامی رائے کچلنے کے لیے بنایا گیا ہے)۔ کشمیر میں یہ پہلی مثال ہے کہ تحریکِ خود ارادیت میں شمولیت کی پاداش میں کسی کشمیری خاتون کو عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔
میری والدہ کے ساتھ ان کی دو ساتھیوں، ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کو بھی تیس تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان تینوں کو۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ آٹھ سال تک جاری رہا ہے۔ میری والدہ نے اپنی زندگی کی ۱۵ سال سے زائد مدت مختلف بھارتی جیلوں میں گزاری ہے۔ جس میں سے زیادہ تر وقت ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (PSA) کے تحت گزارا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ میں اس کرب سے گزر رہا ہوں۔ دو عشرے قبل، اسی طرح کے ایک کمرۂ عدالت میں، ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے میں نے اپنے والد، ڈاکٹر قاسم فکتو کے خلاف عمرقید کی سزا کا حکم سنا تھا (وہ ۳۳ برس سے مسلسل قید میں ہیں)۔ انھیں ایک جھوٹے مقدمے میں الجھایا گیا، لیکن حقیقت میں یہ سزا تحریک حقِ خود ارادیت میں ان کی شمولیت کی وجہ سے تھی۔ میرے والد، جو اطالوی سوشلسٹ دانشور گرامچی (Gramsci)کے الفاظ میں ایک ’نامیاتی دانشور‘ (Organic Intellectual) ہیں، اب تک ۳۳سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار چکے ہیں۔ انھوں نے جیل کی کوٹھری سے۲۰ سے زائد کتابیں لکھیں اور وہیں سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والدین اب اپنے گھر، اپنے بچوں اور ایک دوسرے سے سیکڑوں کلومیٹر دور دوالگ الگ جیلوں میں قید ہیں۔ میری والدہ کے خلاف سزا کا حکم نامہ روایتی عدالتی لفاظی اور ان مبینہ جرائم کی قانونی دفعات سے بھرا ہوا ہے، جو ان تینوں خواتین پر عائد کی گئی ہیں۔ یہ کیسی خون کے آنسو رُلانے والی بات ہے کہ نئی دہلی حکومت کے پاس کشمیری زندگیوں کے لاتعداد برس چھین لینے کا اختیار ہے، جیسے ان کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ وہ کیسے ہمارے گھر اُجاڑ دیتے ہیں، ہمارے خاندانوں کو بکھیر دیتے ہیں، اور پھر خود اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو بھی لیتے ہیں؟
ہمارے گھر میں والد صاحب کے لیے ایک کمرہ ہے، ایک ایسا گھر کہ جس میں وہ ایک دن بھی نہیں رہے۔ عشروں پر پھیلی ان کی قید کے بعد، اب ہمارے گھر میں ایک لائبریری موجود ہے، جو ہماری زندگیوں میں ان کی موجودگی اور غیر موجودگی، دونوں کی علامت ہے۔
اردو میں ’شریکِ حیات‘ کا مطلب ہے کہ جس کے ساتھ زندگی بانٹی اور گزاری جائے۔ میری والدہ نے اپنے ایمان اور اپنی ہمت کے ساتھ کہا کہ اب وہ صحیح معنوں میں میرے والد کی ’شریکِ حیات‘ بن گئی ہیں، کیونکہ اب وہ دونوں عمر قید کی زندگی ایک ساتھ گزار رہے ہیں۔
بھارت کس طرح سرگرمی (Activism) کو جرم قرار دیتا ہے؟
میری والدہ کو عمر قید کی سزا سنانا ان تمام زمروں کی فضولیات کو بے نقاب کرتا ہے، جس کے تحت کہا جاتا ہے: تشدد پسند، یا عدم تشدد پسند،جنگجو یا غیر جنگجو،عسکریت پسند یاسرگرم کارکن۔ یہ وہ تفریق ہے جسے لبرل دنیا بڑے اعتماد کے ساتھ وضع کرتی ہے، لیکن جب اسے نوآبادیاتی ریاستوں کے ظالمانہ نظام کے سامنے پرکھا جائے تو یہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، اور سامنے خونخوار آنکھوں والا گدھ (Vulture)نظر آتا ہے۔
میری والدہ نے کبھی زندگی بھر ہتھیار نہیں اٹھایا۔ اس لیے عدالت نے انھیں جنگ اور عسکریت پسندی کی مالی معاونت کے الزامات سے بری کر دیا۔ مگر ان کے الفاظ، ان کی وابستگیوں اور ان کے نظریات کی پاداش میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
تشدد اور عدم تشدد کی وہ حدیں جن پر لبرل دنیا اصرار کرتی ہے، ایک نوآبادیاتی ریاست کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ مگر میری والدہ کو ملنے والی سزا کسی مسلح جنگجو سے کم نہیں، بلکہ برابر ہے۔ کیونکہ سزا کا ہدف مزاحمت کا طریقہ کار نہیں، بلکہ خود ’مزاحمت‘ ہے۔ یہ عشروں تک، عوامی سطح پر، برملا اور سچ کی بولنے سزا ہے۔ سزا کے حکم نامہ میں لکھا گیا ہے کہ میری والدہ کے ساتھ نرمی برتنا: ’’ایک ایسی روح میں نئی جان ڈالنے کے مترادف ہوگا جس کا مقصد انڈیا کے اٹوٹ انگ کی علیحدگی ہے‘‘۔
ان خواتین کے اسی پختہ یقین نے انڈین انتظامیہ کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔ انڈیا کے نزدیک میری والدہ، ان کی ساتھی، میرے والد اور سیکڑوں دیگر قیدی محض انسان نہیں، بلکہ وہ ’عبرت کے نشان‘ اور عام لوگوں کے لیے ’انتباہ‘ ہیں، جنھیں پوری کشمیری آبادی تک پہنچانے کی بھونڈی حرکتیں کی جارہی ہیں۔ پیغام واضح ہے: ’’اگر ہم۶۴ سالہ ایک بیمارخاتون کو تین بار عمر قید سنا سکتے ہیں، تو تمھیں کون بچائے گا؟‘‘