ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرنا
آج امتِ مسلمہ میں ایک خطرناک بیماری یہ پیدا ہو گئی ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔ مراسمِ عبودیت کی ادائیگی میں تو ہم کچھ نہ کچھ حساس ہو جاتے ہیں، مگر لوگوں کے حق مارنے، وعدہ خلافی کرنے، امانت میں خیانت کرنے، ناپ تول میں کمی کرنے، ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے ہڑپ کرنے، وراثت میں حقداروں کو اُن کا حق نہ دینے کو معمول بنا لیا ہے۔ حالانکہ قرآن متعدد جگہ متنبہ کرتے ہوئے کہتا ہے: <<وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ۱ۙ الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ۲ۙ وَاِذَا كَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ يُخْسِرُوْنَ۳ۭ (المطففین۸۳:۱-۳)>> ’’ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انھیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘۔ <<وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرہ۲: ۱۸۸)>> ’’اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ‘‘۔ <<اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۰ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا۱۰ (النساء۴:۱۰)>> ’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے‘‘۔
یہ سب اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات حقوق العباد کی پامالی سے متعلق ہیں اور ان پر قرآن نے سخت وعید اور اللہ کی ناراضی بیان کی ہے۔ ان میں معاشی ، معاشرتی ، مالی حقوق اور یتامٰی و مساکین کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں جا بجا والدین کے حقوق، اقربا کے حقوق ، پڑوسیوں کے حقوق، دوستوں، اور مسافروں کے حقوق سے متعلق بھی احکامات ملتے ہیں۔ آج اپنی دُعاؤں کے قبول نہ ہونے کےلیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ ہم حقوق العباد غصب کرنے کے مجرم تو نہیں ہیں؟ کہیں ہم نے کسی بہن ، بھائی یا کسی اور عزیز کے حقِ وراثت پر ڈاکا تو نہیں مارا، کسی پڑوسی کے ساتھ تو زیادتی نہیں کی، اپنے والدین کی نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہوئے، اپنے غریب رشتہ دار کو زندگی کے لیے ترستا ہوا تو نہیں چھوڑا ، کہیں بیوی اور بچوں کے حقوق تو ادا ہونے سے نہیں رہ گئے ۔
یاد رکھیے ! اگر ہم مجرم ہیں تو پھر مجرم کی زندان میں شنوائی کیسی؟ اُس کا کام تو زندان میں دُہائی دینا ہی ہوسکتا ہے۔ زندان سے باہر وہ جب ہی آسکتا ہے جب اُس کی سزا پوری ہوجائے یا اُس کا زندان میں کردار اتنا اچھا ہو کہ سرکار اُس کی سزا میں تخفیف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ حقوق العباد سے متعلق مشہور حدیث ’مفلس کون‘ ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیے، تاکہ ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی مال و متاع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کے نیک اعمال میں سے ایک (حق دار) کو دیے جائیں گے، پھر دوسرے کو دیے جائیں گے۔ پھر اگر اس کے ذمے حقوق باقی رہ جائیں اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم : ۲۵۸۱)
حقوق العباد کی عدم ادائیگی وہ خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، یہ معاملہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ آخرت کا سنگین حساب ہے۔ جب تک ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، معافی نہیں مانگتے اور ظلم کی تلافی نہیں کرتے، تب تک ہماری عبادتیں بھی خطرے میں رہتی ہیں، کیونکہ اللہ اپنے حق کو تو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کا فیصلہ بندوں کے درمیان ہی ہوگا۔