مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

’آسیہ اندرا بی کیس‘:فیصلہ یا عدالتی قتل؟

[سلیم منصور خالد | اپریل ۲۰۲۶ | اخبار اُمت] انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔

جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔

اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔

پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔

اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔

عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔

یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔

تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔

خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔

تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔

خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔