ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند بنیادی حقائق
بنیادی طور پر فتح یہ ہے کہ آپ تمام رکاوٹوں پر قابو پالیں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے مطابق اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔
اخلاص اور جدوجہد:فتح کا اصل مقصد دو چیزوں میں کامیابی حاصل کرنا ہے: اپنا ارادہ خالص کرنا اور اپنی پوری کوشش کرنا۔ اگر آپ اس انتہائی ذاتی امتحان میں کامیاب ہو گئے، تو آپ نے فتح کے اعلیٰ ترین درجات پا لیے، چاہے ظاہری دنیا میں کوئی فوری تبدیلی نہ آئے۔ اگر آپ ارادے کو خالص کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو فوجی فتوحات، شہرت، اور عوام کی حمایت آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی، چاہے سرکش ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
اگر آپ ان مختلف شعبوں میں اپنی ممکن کوششیں صرف نہیں کرتے جن میں اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے، تو مادی یا معنوی فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، چاہے اس کی وسعت اور شکل کچھ بھی ہو، کیونکہ آپ کو ذاتی فتح حاصل نہیں ہوسکی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے احتساب کا ایک معیار مقرر کیا ہے جو قرآن کے بیان کردہ قوانین میں سے ایک قانون میں ظاہر ہوتا ہے: <<وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۳۹ (النجم ۵۳:۳۹)>> ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے‘‘۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے خرچ نہیں کیا وہ آپ کو واپس نہیں ملے گا، اور جو کچھ آپ نے نہیں کیا اس کے نتیجے سے آپ ربّ کے ہاں فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <<كُلُّ نَفْسٍؚ بِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ۳۸ (المدثر ۷۴:۳۸)>> ’’ہرشخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے‘‘۔
قرآن حکیم کے مطابق فتح دراصل ایک الٰہی قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا، لیکن جب امت اس کے تقاضوں سے منہ موڑ لیتی ہے تو اس کا وعدہ بھی مؤخر ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <<اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۰ۭ(الرعد۱۳:۱۱)>> ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔
اسی طرح شکست بس ہتھیاروں سے مغلوب ہوجانا نہیں ہوتی ، بلکہ شعور، ارادے اور ایمان کی شکست اصل شکست ہوتی ہے۔سیّد قطب رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ہم اپنی تلواروں کے ٹوٹ جانے سے شکست نہیں کھاتے، بلکہ اس وقت شکست کھاتے ہیں جب ہمارے دل صبر و ثبات اور اللہ کے وعدے پر یقین کی دولت سے محروم ہوکر ٹوٹ جائیں‘‘۔
دعوت اور فکر: دوسری بات یہ کہ فتح در اصل دعوت، فکر اور پیغام کا باقی رہنا ہے، جیساکہ اصحاب الاخدود کے واقعے میں ہوا ، اور جیسا کہ سیّد قطب تو مرتبۂ شہادت پاگئے، مگر ان کی فکر شہادت کے بعد بھی باقی ہے اور پھیل رہی ہے ،جب کہ ان کو قید کرنے والوں اور شہید کرنے والوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ اسی طرح لیبیا پر قبضہ کرنے والوں کے نام اور افکار غائب ہو گئے، اور عمرمختار قافلۂ حق کے لیے ایک مینار کے طور پر باقی ہیں۔ جب قابض اسرائیلی فلسطینی مزاحمت کا نام مٹانا اور اس کے وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے، اور اُن صہیونیوں کے ساتھ پوری دنیا تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس مزاحمت کو دنیا کی تمام خبروں میں پہلی خبر بنا دیا، اور ان کے مقصد، ان کے طریقوں، ان کے اخلاق اور ان کی عزیمت کو زمین پر سب سے نمایاں کر دیا۔ زندگی کی قسم! اگر ان کے مقصد اور ان کے منہج اور ان کے جھنڈے کا زمین میں یہ استحکام فتح نہیں تو فتح اور کیا ہوگی؟
حقیقی فتح اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ لوگوں کےدلوں کو کھول دیتا ہے، تاکہ وہ حق کے پیغام کو جذب کریں، ہدایت کو اپنائیں اور حق کا علم اٹھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف فرمائی تو ان کی کامیابی کی نمایاں علامت کا ذکر کیا:
<<وَجَعَلَہَا كَلِمَۃًۢ بَاقِيَۃً فِيْ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۲۸(الزخرف ۴۳:۲۸)>> اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
صبر و استقامت:تیسری بات یہ کہ فتح، اس دن حاصل ہوتی ہے جب اہلِ حق ایمان کے محاذ پر ثابت قدم رہیں، ان کا عقیدہ متزلزل نہ ہو، وہ اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہوں، ان کے افکار میں کجی نہ آئے، اور ان کی اقدار دشمن کی یلغار میں بہہ نہ جائیں۔ وہ حق پر جئیں چاہے کتنے ہی طوفان اٹھیں، یا پھر اس راہ میں شہادت سے سرفراز ہوجائیں جس کا اللہ تعالیٰ نے انھیں مکلف بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور آپ کے بعد آنے والے حق کے تمام راہیوں سے فرماتا ہے:
<<وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۴۰ (الرعد۱۳:۴۰)>> اور اے نبیؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اُن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمھارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اُٹھا لیں، بہرحال تمھارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
چنانچہ شہیدوں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا، مخلص علما نے اسلام کا کلمہ پہنچا دیا، اور انبیائے کرام جنھیں بنی اسرائیل نے قتل کیا، انھوں نے اللہ کا کلمہ پہنچا دیا۔ لہٰذا ان کی موت، شہادت، ان کا قتل،انتخاب (چُن لیا جانا)، اور ان کا انجام، سب کچھ فتح و نصرت قرار پایا۔
اللہ کی راہ میں شہادت’فتح‘ کی سب سے زیادہ شاندار صورت ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے، اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے، اپنے محاذ پر صبر سے کام لیتے ہوئے جان دیتا ہے۔ شہادت کوئی ایسی مصیبت نہیں کہ اس پر آہ و بکا کی جائے، اور نہ کوئی آفت ہے کہ اس پر افسوس کیا جائے، بلکہ یہ خالص الٰہی انتخاب اور چناؤ (اجتباء و اصطفاء) ہے۔ یہ دنیاوی تصادم کے میدان سے ربّ العالمین کے ہاں اعزاز کے میدانوں کی طرف نہایت باعزّت منتقلی ہے۔
افکار کی بالادستی: چوتھی بات یہ کہ فتح، عقلوں سے پردہ ہٹانے کا کام کرتی ہے، کیونکہ افکار کی درستی اور مجرموں کے دعووں کا لوگوں کے دل و دماغ سے مٹ جانا اُس فتح سے کہیں زیادہ اہم اور دیرپا ہے جو فتح صرف تلوار کے زخم تک محدود ہو۔ اللہ کی تائید اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کفر کی برائی بے نقاب ہوجائے، اس کی فکری عمارت منہدم ہو جائے، اور اس کے باطل دعوے آنکھوں اور نگاہوں کے سامنے غلط ثابت ہو جائیں۔ یہی وہ فتح ہے جو افکار کا زور اور اثرات کے تسلسل کے ٹوٹنے کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ ایسی فتح ہے جو اُن دعووں اور بیانیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ضمانت دیتی ہے، اور دشمن کی عسکری پسپائی سے بہت اونچے درجے کی کامیابی ہے۔
آپ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو دیکھ لیجیے کہ سر زمین مزاحمت سے متعلق ان کے جھوٹے دعوے کہاں دفن ہوگئے؟ حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے نعرے اور جھوٹ کس وادی میں گم ہو گئے؟ بچوں کے حقوق کے اداروں کو دیکھیے کہ اللہ نے ان کے چہروں کی بدصورتی کیسے عیاں کی؟ جمہوریت کے علَم برداروں کا مت پوچھیں کہ اس بت کا کیا حشر ہوا جسے وہ ایک عرصے سے تراش رہے تھے اور لوگوں کو اس کے عظیم فائدے کی خوشخبری دے رہے تھے،کہ بہادر مزاحمت نے انھیں اچانک آ لیا اور ان کے اس بت کو پاش پاش کر دیا۔اس مزاحمت نے تمام جھوٹ، فریب اور کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کر دیا، اور معبد کے پجاریوں، مفاد پرستوں، دھوکے بازوں اور مجرم سرکشوں کو رُسوا کر کے رکھ دیا۔
فتح و کامیابی:پانچویں بات یہ کہ فتح، ظالم سرکشوں کو ہلاک کرنے اور ان کی سلطنت کو زوال آشنا کرنے کی صورت میں امت پر اللہ کا ایک انعام ہے۔ اور سرکشی کا انجام بہت بُرا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <<فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِہٖ۰ۚ (العنکبوت ۲۹:۴۰)>> ’’آخرکار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑ لیا‘‘۔تاریخ کا تذکرہ جبروت کے مذموم انجام کی گواہی دیتا ہے، یعنی عاد سے لے کر ہر سرکش اور متکبر بادشاہ تک، جسے قدرت کے ہاتھ نے سمندر میں غرق کیا، یا تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا، تاکہ ان کا زوال مومنوں کے لیے ایک نشانی اور مجاہدین کے لیے باعث نصرت ہو ۔
حقیقی کامیابی:چھٹی بات یہ کہ فتح یہ ہے کہ اس راہ کا مسافر روزِ حساب مالکِ روز جزا کے سامنے پیشی کے وقت اس کی خوشنودی پانے میں کامیاب ہو جائے، کیونکہ دُنیاوی فتح و نصرت ایک عارضی منظر ہے، جس میں اَدل بدل کا قانون جاری رہتا ہے : <<وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ۰ۚ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۰)>> ’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘، لہٰذا نہ خوشی مستقل رہتی ہے، نہ طاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یہ قانون کسی ظالم کو نہیں چھوڑتا مگر اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے، اور کسی خوش حال کو نہیں چھوڑتا مگر اس کو مفلوک الحال بنا دیتا ہے۔
سب سے بڑی اور مطلق فتح و نصرت ، تو وہ ہے جس کے نتائج اللہ سے ملاقات کے دن ظاہر ہوں گے۔ اس دن سب کچھ جاننے والے بادشاہ نے حق کا ترازو نصب کر رکھا ہوگا :
<<فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵)>> کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کر دیا جائے۔
اسی طرح حقیقی خسارہ وہ نہیں جو دنیا کی دولت سے ہو، بلکہ وہ ہے جو اس عظیم دن انسان اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کے نتیجۂ اعمال میں دیکھے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
<<وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۰ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۴۵ (الشوریٰ۴۲:۴۵)>> اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنھوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے۔
سبقت لے جانے کی آخری انتہا، اور کامیابی کی بلند ترین چوٹی رضائے الٰہی کا حصول ہے، اور اسی سے نصرت الٰہی کا عمل مکمل ہوتا ہے، جو دنیا میں مدد سے لے کر ہمیشہ کی جنتوں میں داخلے کی صورت میں تکمیل کو پہنچتا ہے :
<<اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ۵۱ (المؤمن ۴۰:۵۱)>> یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔