ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انسانی تربیت میں والدین کا کردار
انسانی تربیت میں والدین کا کردار بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بچّے کی تربیت کا پہلا ادارہ گھر کا ادارہ ہے، جس کے کارپرداز والدین (اور دوسرے بزرگ یا بھائی بہن) ہوتے ہیں۔ والدین کے سامنے اگر اپنی اولاد کو انسانیت کے بہترین معیار تک پہنچانا اور اسلامی فکروعمل سے آراستہ کرنا ہو تو ایسے دُور اندیش اور ذمہ دار والدین، بچّے کی پیدائش سے پہلے سارا منصوبہ بنالیتے ہیں۔
والدین اسے زبان سکھاتے ہیں اور زبان اور گفتگو کی خرابیوں سے بچاتے ہیں۔ وہ سونے سے لے کر جاگنے تک اور پھر دن میں گھر کے روز مرہ مشاغل میں شرکت کراتے وقت بچّے کو صحیح آداب کی تربیت دیتے، اقدار اور شعائر سے مالامال کرتے ہیں۔ گندگی سے بچنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہاتھ منہ صاف، ناخن درست، لباس دُھلا ہوا ہو اور اگر کہیں سے پھٹا ہو تورفو کیا جائے، جوتے پالش کیے ہوئے اور مٹی سے صاف، پورے جسم کی صفائی، دانتوں کی صفائی، سر کے بالوں کو کنگھی سے درست کرنا، بڑوں کاادب اور ان کا حکم ماننا، چھوٹوں سے محبت کرنا، گھر میں اور گھر کے باہر جہاں ضرورت ہو مدد پہنچانا اور خدمت کرنا، خدا کو پہچاننا، اس کے دین کی تعلیم آہستہ آہستہ حاصل کرنا، قرآن پڑھنا، نماز ادا کرنا، مقررہ اوقات میں اچھے اخلاق کے شریف بچوں کے ساتھ کھیلنا، اسکول کا دور ہو تو آموختہ یاد کرنا، اگلے سبق کی تیاری کرنا، جو کام کرنے کو استادوں نے بتایا ہو، خوش خطی سے لکھنا اور صفائی سے کرنا، گالی، جھوٹ، وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت ماں باپ کرتے ہیں۔
یہ معلوم کرنا کہ دُنیا میں اچھائی بھی پائی جاتی ہے اور بُرائی بھی، اور کبھی کبھی بُرائی بہت دلکش ہوتی ہے، جیسے سانپ کی لہردار جِلد بہت کشش رکھتی ہے۔ بچّے کو والدین آہستہ آہستہ تلقین کر کے جہاں یہ بتائیں کہ بُرائی اور اچھائی کی کیا کیا شکلیں ہیں، وہاں ان کو بُرائی سے بچنے اور ہوسکے تو دوسروں کو بھی بچانے یا سرے سے مٹانے کی کوشش کرنا، اچھائی میں چمک دمک کم ہو تو بھی اسے قبول کرنا اور پھیلانا بتائیں۔ حرام و حلال کا فرق سمجھائیں۔
والدین ان کے سامنے تاریخ کی روشن شخصیتوں کے حالات بیان کریں اور اس طرح شہرت یافتہ ظالموں اور بے انصاف بادشاہوں، یا بُری عادتوں کی وجہ سے برباد ہونے والے بڑے لوگوں کا بھی نقشہ کھینچیں۔ خبروں پر گفتگوکرکے انھیں سمجھائیں کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا۔ ان کے لیے مفید اثرات رکھنے والی دلچسپ کہانیوں، نظموں اور معلوماتی قسم کی کتابیں عمر کے لحاظ سے فراہم کرتے رہیں۔ ان کے لیے گھر میں چھوٹی سی لائبریری خود ان کے ہاتھوں سے تیار کرائیں جو بڑھتی رہے۔ انھیں سیر کرائیں، میوزیم، چڑیا گھر، پریس اور دوسرے کارخانے، نیز مساجد اور تاریخی یادگاریں اہتمام سے دکھائیں۔ جس شہر میں بھی جانا ہو، وہاں بھی دینی اور دُنیوی معلومات سے ان کو آراستہ کریں۔
ان ساری کوششوں کے ساتھ اپنی خداپرستانہ تہذیب کی اعلیٰ قدروں ___ صداقت، انصاف، تواضع ، حیا، ہمدردی، رحم وغیرہ کو اُبھاریں۔یہی چیزیں عملی شکل اختیار کر کے اخلاقِ عالیہ کی سطح تک پہنچتی ہیں۔ ان کو تربیت دیں کہ وہ معاشرے اور ماحول کے بُرے حالات، دنگے فساد، لُوٹ مار، کھانے کی ناقص مگر ظاہراً دلکش اشیاء، عمارتوں اور گاڑیوں پرنگاہِ غلط انداز ڈالتے ہوئے جلد گزر جائیں اور کوئی بُرااثر نہ لیں۔ وہ صرف اپنے خدا کی خوشنودی کو سامنے رکھیں۔ تعلیم گاہ کا ادب کریں، اساتذہ کا احترام کریں اور قواعد و ضوابط اور وقت کی پابندی کریں۔ اگر مکتب اور کالج کی تعلیم کے ساتھ والدین کی یہ مساعی جاری رہیں اور دونوں یکساں انداز سے کام کریں تو بہت اچھا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ گھر اور درس گاہ میں اگر تضاد ہو تو بچّے میں بامعنی زندگی کے لیے اچھا کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔