ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نصرتِ الٰہی کا قانون__ ایک بنیادی عقیدہ
نصرت الٰہی کا قانون، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے شروع ہوتا ہے: <<وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۰ۭ (الانفال۸:۱۰)>> ’’مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے‘‘۔ یہ محض ایک وقتی مقولہ نہیں ہے جسے صرف سختیوں میں دُہرایا جائے، بلکہ یہ ایک مضبوط بنیادی عقیدہ ہے، جو صاحب ِایمان کو سبب پیدا کرنے والے اللہ کے ہاتھ میں ایک سبب بنا دیتا ہے۔
فتح و نصرت کوئی غنیمت نہیں جس کو محض انسانی چالاکی سے حاصل کیا جا سکتا ہو ، بلکہ یہ ایک آسمانی تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ زمین میں اپنے دین اور اپنے عظیم مقاصد کو قائم کرنے کے لیے عطا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ خواہشات کو اعزاز بخشا جائے یا ذاتی و شخصی تنگ نظری کے حسابات برابر کرنے میں صرف کیا جائے ۔ میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ اہل حق کو جو ثبات و استقامت عطا کرتا اور دشمنوں کی چالوں کو بے نقاب کرتا ہے، وہ اللہ کی مدد اور تائید ہے:
<<فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۰۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۰ۚ (الانفال۸: ۱۷)>> پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔
اس پختہ عقیدے کا مطلب بندے کی جدوجہد اور کوشش کو کالعدم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام اسباب، چاہے وہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اسباب سے زیادہ اللہ کی ذات پر بھروسا کیا جائے۔