مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

صحابہؓ کی عظمت

صحابہؓ کو ایک طرف تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی سعادت میسر آئی۔ وہ قرآن کے اوّلین مخاطب بنے اور ان میں سے بعض کو اس دُنیا میں ہی جنّت کی بشارت دے دی گئی ۔ دوسری طرف ایک اور اعزاز اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان کیا۔ کسی بندہ کی اس سے بڑھ کر اور خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ فاطر ارض و سما اس سے راضی ہوجائے۔ قرآن میں اس رضا کا صاف اعلان ہے:

اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (المائدہ ۵:۱۱۹)

وہ مہاجر و انصار جنھوں نے سب سے پہلے دعوتِ ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیزوہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔(التوبہ ۹:۱)

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے راضی ہوا، جب کہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔ (الفتح ۴۸:۱۸)

اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ (حزب اللہ) ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔(المجادلہ۵۸:۲۲)

ظاہر ہے کہ ایک انسان کی زندگی کا حاصل اور ایک مسلمان کی کش مکشِ حیات کا آخری ہدف یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرلے۔ تخلیق انسان کا مقصد، عبادات کی غرض و غایت اور اسلام کا مُدعا یہی ہے اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام جس تعلیم کو لے کر آئے اس کا آخری سبق یہی ہے۔ اس اعتبار سے صحابہؓ کی زندگی مثال اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔