ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مسلم دُنیا کے لیے عبرت کا سبق
ہمارے نزدیک یہ جنگ سامانِ عبرت ہے، جس نے واضح کر دیا ہے کہ:
۱- امریکا، صلیبیت اور صہیونیت کا طرف دار ہے، جس کے شانہ بشانہ برہمنیت کھڑی ہے۔
۲- اہلِ مغرب کی قیادتیں خود غرضی، سنگ دلی، بداخلاقی اور بدعہدی کی شرمناک سطح پر کھڑی ہیں۔
۳- ’صہیونیت‘ (نہ کہ تمام یہودی) مغربی اور مسلم دُنیا کی پالیسی سازی میں دخیل ہے۔
۴- صہیونیت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دولت، دھوکے، میڈیا، جنسی بے راہ روی اور پروپیگنڈا کو بطورِ ہتھیار برتتی چلی آرہی ہے۔
۵- مسلم دُنیا کی معدنی دولت کو تعلیمی ترقی، سائنسی جستجو اور دفاعی آلات و حکمت عملی کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پروان چڑھانے پر صرف کرنے کے بجائے آسائشوں کے پھیلائو اور بے جان عمارتی ڈھانچوں کی تعمیر اور اسلامی شعائر کی بے حُرمتی پر صرف کرنے کو کامیابی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔
۶- اپنے عوام کو پالیسی سازی میں شرکت دینے کے برعکس، خوف کی حکمرانی قائم کر کے اپنے خانگی اقتدار کے استحکام ہی کو زندگی کا حاصل سمجھا گیا ہے۔
۷- اسلامی قوتوں کو کچلنے اور ان کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو فروغ دیا گیا ہے۔
۸- اسرائیل سے قربت اور امریکا کے سامنے خود سپردگی کا راستہ اپنایا گیا ہے۔
یہ اور اسی نوعیت کے مزید درجن بھر اُمور فساد، خرابی و کج فہمی کا نصاب ہیں۔ اس فساد بھرے منظرنامے میں دانش کی یہی بات ہے کہ:
۱- ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کو حق اور عدل کی بنیاد پر واقعی اُمت کی ترجمان تنظیم بنانے اور اُمت کے معاملات کا اَزسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
۲- اسرائیل اور امریکا کی دھونس (dictation)کو تسلیم کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
۳- براہِ راست جنگ کے خطرے سے دوچار ملکوں کو اَناپرستی کی قید سے نکل کر آگے بڑھتے ہوئے امن کا پرچم اُٹھانا، اور اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دیانت دار مسلم اہل دانش کا کمیشن مقرر کرنا چاہیے۔
۴- فلسطین کے مسئلے پر جامع، دو ٹوک اور منصفانہ موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
۵- اس افسوس ناک جنگ کا روشن پہلو یہ ہے کہ جون ۱۹۶۷ء سے قائم اسرائیل کے اس دعوے اور ہوّےکا دامن تار تار ہوگیا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے (اس کارنامےکے لیے اہلِ ایران کی جرأت اور قربانی واقعی سنہرے حروف سے لکھی جائے گی)۔
۶- اقوام متحدہ کے غیرمؤثر ہونے کی وجہ سے لازم ہے کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ ایک ’اُمۃ عدالت انصاف‘ قائم کرے، جس کے ارکان مسلم دُنیا کے قابل جج ہوں اور وہی مسلم دُنیا کے مابین تنازعات اور شکایات کو دُور کریں۔
۷- ’مسلم مالیاتی فنڈ‘ (مسلم مانیٹری فنڈ)تشکیل دیا جائے، جو مغرب اور یورپ میں بکھرے مسلم مالی ذخائر کو ایک جگہ منتقل کرکے، مسلم دُنیا کی تحقیقی، تعلیمی، تجارتی، صنعتی، سائنسی، سماجی، دفاعی، طبّی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باہمی تعاون کا مستحکم نظام بنائے۔
۸- ’پاکستان ایران پائپ لائن معاہدے‘ پر عمل درآمد شروع کیا جائے اور امریکا کی جانب سے بے جا طور پر مسلط کردہ معاشی و تجارتی غلامی سے نکلا جائے۔
یہ جان لینا چاہیے کہ بیسویں صدی کے ابتدا میں یہودیوں، برطانویوں اور فرانسیسیوں کے اشتعال دلانے سے جس ’عرب قوم پرستی‘ کے بُت کو تراشا اور اس کو پوجا گیا تھا، اُس نے کمزور عثمانی خلافت کے پرخچے تو اُڑائے ہی تھے، مگر عرب دُنیا کو سوائے چند مجبور مملکتوں کے، کوئی قابلِ فخر اثاثہ نہ دیا۔ کیا ایک سو سال کے اس تلخ تجربے سے سبق سیکھنے کا ابھی وقت نہیں آیا؟
اسرائیل اور امریکا کی پوری کوشش یہی ہے کہ وہ کسی طرح خود اس جنگ کی آگ سے باہر نکل جائیں اور اس کے بجائے ایران اور بعض مسلم ممالک کے درمیان ایک خوںریز تصادم شروع کرا دیں۔ایسی صورتِ حال امتِ مسلمہ کے لیے تباہ کن، اسرائیل کے لیے بہت بڑی راحت اور امریکی اسلحہ ساز صنعت کے لیے سنہری موقع ثابت ہو گی۔اب مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کی اس عیارانہ سازش کو سمجھیں، تصادم کے پھندے میں نہ پھنسیں اور امت کو اس خطرناک جال سے بچا کر کامیاب بنائیں۔