ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عید اظہارِ تشکر کا دن
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم نے رمضان کے ۳۰ دن اللہ ربّ العزت کے اکرامات اور فیضانات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں چاروں طرف پھیلے ہوئے انوار و برکات سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت کی صورت میں، حُسنِ خُلق کی صورت میں، عبادات کی صورت میں، نوافل کی ادائیگی کی صورت میں، شب بیداری کی صورت میں، قیام اللیل کی صورت میں،صدقہ و خیرات کو فروغ دینے کی صورت میں، غرض جتنے محاسن بھی انسانی زندگی کو خوش نما بنا سکتے ہیں رمضان کے اندر ہم نے بھرپور کوشش کی کہ ان کو اختیار کیاجائے۔
اللہ ربّ العزت نے اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں زندگی عطا کیے رکھی، ہمیں شعور اور صحت سے نوازے رکھا۔ لہٰذا بطور شکر اس بات کا انتظام کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہم اللہ ربّ العزت کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیں اور سجدۂ شکر بجا لائیں۔ یہ نماز عید فی الحقیقت خوشی کے آداب کی ادائیگی ہی کا ایک اظہار ہے۔ یہ اسی اخلاق کا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا کہ تمھاری خوشی کے دن کا آغاز بھی اللہ کے شکر کی ادائیگی سے ہونا چاہیے۔ تم اپنی پیشانیوں کو اللہ کے سامنے جھکا کر اور سربسجود ہو کر اس بات کا اعلان کرو کہ پابندیوں کے دن ہوں یا آزادیوں کے، اے اللہ! ہم تیرے غلام ہیں، اے اللہ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے فرامین کے اوپر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر دم تیار اور ہر وقت حاضر ہیں۔ یہ کیفیت درحقیقت اگر کسی مومن کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی بھلائیوں، اچھائیوں، نیکیوں اور حُسن خُلق کو اپنانے اور ان کے اوپر عمل کرنے اور ان کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے ایک بہترین انسان ثابت ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر اس اہتمام کی بھی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر حاصل ہونے والے اسباق اور تربیت کے ان اعمال کو جو ہم نے رمضان المبارک میں سیکھےہیں اور رمضان المبارک نے ہمیں جن چیزوں اور کاموں کا عادی بنا دیا، ان کو ذہن میں تازہ رکھیں، تاکہ ہمیں یہ یقین ہو کہ اس پر عمل کا مرحلہ ختم نہیں ہوگیا بلکہ رمضان تو سیکھنے کا مرحلہ تھا، اب عمل کا گیارہ مہینوں پر محیط طویل مرحلہ باقی ہے۔ اس مرحلے کے اندر ہم نے مسلسل انھی تربیتی پہلوؤں کو اپنے زیر عمل رکھنا ہے۔ انھی اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے اور انھی دروس سے اپنی زندگی کو روشن کرنا ہے۔