ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
گناہوں کی کثرت
آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ جن اعمال پر کبھی دل کانپ جاتا تھا، آج وہ معمول بن چکے ہیں۔ جھوٹ کاروبار کی حکمت کہلاتا ہے۔ سود معاشی ضرورت بن گیا ہے۔ نگاہوں کی بے احتیاطی آزادی سمجھ لی گئی ہے، اور حقوق العباد کی پامالی کو چالاکی کا نام دے دیا گیا ہے۔ تکبر ہر خاص و عام میں سرایت کرگیا ہے۔ غیبت، تہمت، نجویٰ، تجسس اتنا عام ہوگیا ہےکہ کسی کو اس سے روکیں تو وہ منہ کو آتا ہے۔ جب گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھا جائے تو اُس سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملتی اور یہ معاشرے کا کلچر بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گناہ انسانوں ہی سے ہوتے ہیں اور گناہ کے بعد ندامت کا ہونا ایمان کی علامت ہے، اور گناہ کو گناہ نہ سمجھنا اور اس پر ڈٹے رہنا شیطانی صفت ہے۔ جس طرح آدم ؑ نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی، پھر وہ اُس پر شرمندہ ہوگئے اور سچی توبہ کرلی، جب کہ دوسری طرف شیطان تھا جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور پھر اس پر اُسے کسی قسم کی ندامت بھی نہ ہوئی۔ اسی لیے اُسے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملی اور وہ مردُود قرار پایا ۔ موجودہ دور میں اُمت کے لوگ مذکورہ بالا اور ان کے علاوہ دیگر گناہ دلیری سے کر رہے ہیں اور اُن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے بیٹھے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی وہ رَانَ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورئہ مطففین کی آیت ۱۴ میں کیا ہے:’’ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔(جامع ترمذی:۳۳۳۴)
لہٰذا جب گناہوں کا تسلسل قائم رہے اور توبہ نہ کی جائے تو دل سیاہ پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دل سخت ہوجاتا ہے، دعا بے اثر ہونے لگتی ہے، عبادت میں لذت باقی نہیں رہتی، اور معاشرہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا معمول نہ بنائیں، اور کبھی انسان ہونے کے ناتے گناہ سرزد ہوجائے تو حضرت آدمؑ کی طرح توبہ کرنے میں تاخیر نہ کریں، اور ہمیشہ اپنے باطن کا محاسبہ جاری رکھیں کیونکہ زندہ دل ہی اللہ کی طرف پلٹ سکتا ہے۔