مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

صحابہؓ کی شانِ رفاقت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اعلانِ نبوت فرمایا تو جیسے زمین و آسمان اجنبی بن گئے۔ آپ کا یہ اعلان اہلِ قریش کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ’صادق و امین‘ یکایک ان کے لیے ’خطرہ‘بن جائے گا اور وہ’شرم و حیا کا پُتلا‘ جس کی نگاہیں ہمیشہ نیچی رہتی تھیں، اس قدر ’بے باک‘ ہوجائے گا کہ اپنے آباواجداد کے مذہب تک کو چیلنج کر گزرے گا۔ اس اعلان کا صاف مطلب یہ تھا کہ نہ صرف اہلِ مکہ بلکہ پورے عرب معاشرے سے اعلانِ جنگ کیا جارہا ہے۔ سو وہ ہوا، پورامعاشرہ ایک اکیلی جان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہر طرف سے مخالفت کا طوفان اُمنڈ آیا۔ یہ بڑا سخت وقت تھا۔ ایسے حالات میں اس ’داعیِ حق‘ کی حمایت و نصرت کے لیے کسی شخص کا آواز بلند کرنا موت کے ہم معنی تھا۔ مگر زندہ ضمیر افراد ایک ایک کر کے اپنے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔ اس کے ہمدم، ہمراز، ہمراہی ، پشت پناہ، ساتھی اور مددگار بنے۔ انھوں نے ہرمصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ہر آزمائش کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اہل مکہ کے ہرظلم وستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا اور اہل مکہ کے ہرظلم و ستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا، کوڑوں کی ضربیں لگائی گئیں، دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، زنجیریں باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا، تختۂ دار پر کھینچا گیا، مقتل کی سیر کرائی گئی، لوہے کے گرم گرم اوزاروں سے داغ لگائے گئے، بوجھل پتھروں کے نیچے دابے گئے، غرض وہ سب کچھ ہوا جس کا ظلم کے عنوان سے ایک انسان تصور کرسکتا ہے۔ یہ آزمائشیں ان لوگوں کی راہ کھوٹی نہ کرسکیں۔ ان ’صاحبانِ عزم و استقلال‘ نے کسی قیمت پر بھی داعیِ حق صلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت گوارا نہ کی۔ معیت و مصاحبت کو ترک نہ کیا۔ اور ایک مرتبہ جس رشتۂ رفاقت و اُلفت میں منسلک ہوگئے تھے، پھر اس پر کوئی حرف نہ آنے دیا۔ یہ حضرات آپؐ کے ایسے ساتھی اور رفقا تھے کہ دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں آپؐ سے جدا ہوتے ہوں۔ پھر ان صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محض ’تعلق‘ نہ تھا، ’عشق‘ تھا۔ یعنی ایک طرف تو مقصد کی ہم آہنگی، رفاقت اور تعاون کا تقاضا تھا کہ کسی لمحہ ساتھ نہ چھوڑا جائے اور دوسری طرف ’دل کے تقاضے‘ تھے کہ محبوبِ نظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس عشق کے آداب قرآن میں یوں سکھائے گئے ہیں:

اے نبیؐ! کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اوراس کی راہ کی جدوجہد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے۔(التوبہ۹:۲۴)

صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اعزہ و اقارب، بلکہ دُنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ تھی۔ وہ اس بات کو گوارا کرنا تو بڑی بات ہے، اس کا تصور تک نہ کرسکتے تھے کہ حضورؐ کو کانٹا بھی چبھے اور وہ آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے رہیں۔ صحابہ کایہ عشق ہمہ گیر تھا۔ آپؐ کی ذات و شخصیت سے بھی تھا اور آپؐ کے پیغام و دعوت سے بھی۔ وہ آپؐ پر ایمان لائے، آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور آپؐ کی خاطر تکلیفیں اُٹھائیں، ہجرت کی اور ہرمرحلے میں دوش بدوش چلے۔ ان کی یہ محنتیں رائیگاں نہ گئیں۔ اُس کا انھیں بدلہ بھی خوب ملا:

جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنھوں نے پناہ دی، اور مدد کی، وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطائوں سے درگزر ہے، اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آئے اور تمھارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے، وہ بھی تم میں شامل ہیں۔(الانفال ۸:۷۴)

جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ افضل خلائق (تمام مخلوقات میں سب سے افضل) ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے ربّ کے یہاں یہ ہے کہ بسنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ (بدلہ)ملتا ہے(ہر) اس (شخص) کو جو اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔ (البینہ۹۸:۸)

انھوں نے اسلام کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا اور یہ ساری متاعِ دُنیا دراصل ہے بھی بے مایہ، اُس معاوضہ کے مقابلہ میں جو انھیں حاصل ہوا:

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنّت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے۔ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پوراکرنے والا ہو۔(التوبہ ۹:۱۱۱)

لیکن اسلام کے لیے اپنی ان عالی خدمات کی بناپر انھیں مطلق یہ احساس نہ تھا کہ وہ بھی ’کچھ‘ ہیں۔ سب کچھ قربان کرنے کے باوجود غرورو تکبر اور بڑائی کا’وسوسہ‘ تک صحابہؓ کے دل میں پیدا نہ ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب ’کارنامے‘ ہماری کوششوں کا حاصل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں وہ کسی مقصد کے لیے اپنی ذرا سی ’خدمت‘ پر پھول جاتے ہیں، اور بہت سارے حقوق و مراعات اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر ان جان نثاروں کا حال یہ نہ تھا۔ ہرلمحہ سہمے سہمے اور خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی کوتاہی کی وجہ سے یہ خدمات قبولِ بارگاہ نہ ہوسکیں۔ پھر آخرت میں اجرکے ایسے حریص تھے کہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہمیں اس دُنیا میں ہی ساری کوششوں کا صلہ نہ مل جائے کہ وہاں خالی ہاتھ رہیں۔ اسی بناپر وہ ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور استغفار کیا کرتے تھے، تاکہ اس جدوجہد میں بربنائے بشریت جو لغزشیں ہوگئی ہوں، ان کی تلافی ہوجائے۔ وہ پکار اُٹھتے:

مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچالے۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں۔ فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں۔(اٰل عمرٰن ۳: ۱۶-۱۷)

اور حقیقت میں یہ ممکن بھی نہ تھا کہ جن نفوسِ قدسیہ کی تعلیم و تربیت آغوشِ نبوت میں ہوئی تھی، اس میں رذائلِ اخلاق کی کوئی آلائش باقی رہتی۔ کیونکہ جن بھٹیوں میں سے گزر کر وہ کندن بنے تھے، اس عمل میں غرور، تکبر، حسد اور دوسری بُرائیاں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔