ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پاکستان کے لیے نازک دوراہا
اس ماحول میں پاکستان کے لیے بہت گہرے چیلنج اُبھر کر سامنے آئے ہیں، جن میں حکومت ِ پاکستان بظاہر پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے ’تزویراتی توازن‘ (Strategic Balance) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے:
۱- اصولی مذمت اور خود مختاری کا دفاع:پاکستان نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
۲- ایران سے تعلقات: پاکستان کی ہرلحاظ سے یہ ضرورت ہے کہ ایران سے سرحدی کشیدگی پیدا نہ ہو، اور عرب دُنیا سے تعاون صرف عرب سرزمین کی جغرافیائی حدود تک محدود رہے، نہ کہ اقدامی اور جارحانہ شکل اختیار کرے۔پاکستان کو ایران کے خلاف ’امریکی، اسرائیلی مہم جوئی‘ میں اپنی زمین یا فضائی حدود فراہم کرنے سے ہر حالت میں سختی سے انکار کرنا چاہیے۔ یہی غیرجانب داری اور اصولی موقف پاکستان کے بقا کی ضمانت ہے۔
۳- سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ :ایک طرف ایران پڑوسی ملک ہے، تو دوسری طرف پاکستان نے ۲۰۲۵ء میں سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ کررکھا ہے۔ سعودی پاک دفاعی معاہدے کے بارے میں محترم حافظ نعیم الرحمٰن (امیر جماعت اسلامی پاکستان) نے جماعت اسلامی کی پالیسی، مؤقف اور اتحادویکجہتی کے فروغ کے لیے دُور اندیشی پر مبنی راہ نمائی دیتے ہوئے کہاہے کہ ’’اس معاہدے میں توسیع لاتے ہوئے سب سے پہلے ایران اور ترکیہ کو اس میں شامل کیا جائے، اور پھر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ جس روز اس وسعت کے ساتھ یہ معاہدہ معرضِ وجود میں آگیا، اسی روز سے اسرائیلی اور سامراجی مداخلت اور بلیک میلنگ کا باب بند ہونے کا آغاز ہوجائے گا۔
۴-سفارتی پُل کا کردار: پاکستان خود کو ایکBridge Builder کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انصاف، عدل اور غیرجانب داری کی بنیاد پر یہ کوششیں آگے بڑھتی ہیں، تو پاکستان کے لیے اعزاز کا درجہ رکھیں گی۔ مناسب ہوگا کہ پاکستان، ترکیہ،انڈونیشیا اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایسا ’سفارتی بلاک‘ بنائے جو تہران اور ریاض کے درمیان غلط فہمیوں کو دُور کرے۔
۵- تزویراتی خود مختاری :پاکستان کو کسی بھی صورت میں مشرقِ وسطیٰ کی ’گروہی سیاست‘ (Bloc Politics) کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی ’محدود ہم آہنگی، اور ’عسکری مداخلت سے گریز‘ پر مبنی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سفارتی طور پر ایران کے ساتھ ہے، اور دفاعی طور پر سعودی عرب کے ساتھ، مگر عسکری طور پر غیرجانب دار رہنا چاہتا ہے۔تاہم ’سلامتی کونسل‘ میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری کے دوران پاکستان کا کردار سفارتی حلقوں کے خیال میں ناقابلِ فہم رہا، اور یہی معاملہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ میں ایران کے خلاف یک طرفہ موقف کے دوران دیکھنے میں آیا۔
پاکستان پر حددرجہ نازک ذمہ داری ہے، جس میں وہ دُنیا اور عالم اسلام کو ناقابلِ تصور صدمے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اصولی، اخلاقی اور قانونی موقف پر جم کر بات کرنے کے بجائے اگر دولت اور طاقت کی دھونس میں آکر کمزور ناقابلِ فہم لب و لہجہ اختیار کیا گیا تو یہ چیز ملک و ملّت اور دُنیا کے لیے خسارے کا سودا ہوگا۔
کیا اس بات میں کوئی شک رہ گیا ہے کہ امریکا نے ایران کو مذاکرات میں اُلجھا کر، اس پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی جاری رکھی، اور حملہ کرکے سیاسی قیادت کو ختم کرنے کا راستہ اپنایا۔ وہ ایران کہ جس کے ۹کروڑ انسانوں پر ۳۶برس سے معاشی، تجارتی، سماجی پابندیاں عائد کیے رکھیں۔ ساتھ ہی مسلم ممالک کے درمیان جنگوں کو بھڑکایا، اور جب ۲۸فروری کو مجرمانہ حملہ کیا تو بوکھلاہٹ میں مسلسل جھوٹ بولے اور پینترے بدل بدل کر جہالت اور دھوکا دہی کا ارتکاب کیا۔ کیا یہ کسی معقول یا مہذب ریاست کا رویہ ہوسکتاہے؟ کیا یہی ملک ہے مغربی تہذیب کا نمائندہ اور چہرہ؟ (س م خ)