ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سیاسی فکر، مجرمانہ نیت یا کشمیر اور اقامتِ دین کا قانونی پہلو
فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔
جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔
کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟
اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔
دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔
پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟
ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔
اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟