مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرِنو

اسلوبِ بیان بدل بدل کر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آج، جب کہ پوری دُنیا ایک محلّہ اور گائوں بن گئی ہے، تو دُنیائے اسلام، اپنے گھر، محلّے، شہر، ملک اور ساری دُنیا کے ماحول کاتحفظ کس طرح کرسکتی ہے؟

دُنیا ایک ہوکر سامنے آئے،یا الگ الگ ملکوں اور معاشروں کا معاملہ ہو۔ ان میں بگاڑ چاہے خوفناک حدوں تک پھیل جائے اور زوداثر اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ اور ان کا بنایا ہوا ماحول حددرجہ بگڑ جائے، تو پھر بھی اصلاح و تعمیرِنو کا صرف ایک راستہ ہے۔ وہ یہ کہ کوئی فرد پیغمبر کی تعلیم سے روشنی حاصل کرکے انھی کے طریق پر (جس کے لیے کامل اور واضح نمونہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) تن تنہا دعوتِ حق لے کر اُٹھ کھڑا ہو، اور دوسرا ساتھی تیار کرے۔ پھر اسی فکرو تحریکِ اصلاح کو وہ دونوں آگے بڑھائیں، یہاں تک ایک سے زیادہ گروہ منظم کام کرنے میں لگ جائیں۔ اس طرح ایک ایک فرد صحیح عقیدہ و فکر اور صحیح راہِ عمل اختیار کرتا چلا جائے، یہاں تک کہ ملکی یا عالمی معاشرہ میں ایک وقیع طاقت، علوم سے آراستہ اورکردار کی پاکیزگی سے مزین، نئی دینیات تیار کرنے اور نیا انسان بنانے کی مہم کو پھیلاتی چلی جائے۔تاآنکہ لوگ متوجہ ہوں، اس کے متعلق بحثیں پیدا کریں، کہیں جبروستم بھی ان لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، اور اس طرح یہ طرزِفکروعمل اتنا عام ہوجائے کہ معاشرے کی سیاست، معیشت، معاشرت اور ثقافت بے تُکے طریق سے چل نہ سکے۔ اس معاملے میں ایک طویل کش مکش کام کرسکتی ہے، جس کے اثرسے اور زیادہ لوگ تحریک اصلاح کے گرد جمع ہوں۔ اس کا آخری نتیجہ انقلاب ہوگا، چاہے کسی بھی راستے اور طریقے سے واقع ہو۔

اصلاح ہمیشہ اس اصول پر ہوتی ہے کہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں کہیں ایک چراغ جلتا ہے، پھر ایک اور، پھر اور ___ یہاں تک کہ شعاعوں اور روشنیوں کے لشکر ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ خاصی تعداد جب اس کام کے لیے تیار ہوجائے تو چاہے وہ انقلاب کا راستہ اختیار کریں اور چاہے انتخاب کا، کامیابی صرف اتنی ہوگی جس تناسب سے اصلاح یافتہ اور علَم بردارانِ اصلاح افراد تیار کیے جاچکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کام جلدی سے کرلینے کا نہیں۔ جس میں بھی جلدی اقتدار حاصل کرنے اور اس کے لیے ہردرجے، ہرسطح اور ہر ذہن کے لوگوں کے تعاون سے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوجائے، وہ اقتدار حاصل کرکے بھی معاشرے کی بے شمار مخالف اصلاح قوتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور نہ وہ دین کے لیے غلبہ کا سامان کرسکتا ہے۔ جتنا جتنا معاشرے میں فضا تیار ہوگی، صرف اتنا ہی کام کرنا ممکن ہوگا۔ نہ یہ کہ چند نشستیں زیادہ مل جانے سے ظلم کا استیصال ہوجائے گا اور نیکی کی صبح طلوع ہوجائے گا۔ اس پر یہ مصرع صادق آتا ہے کہ: عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

معاشرے میں تبدیلی کے لیے فضا اور نوجوانوں میں اس کی اُمنگ پیدا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اگر کام کیا جائے تو اس کا نقطۂ آغاز نظامِ تعلیم کی درستی ہے۔پھر نظامِ تعلیم کو اتنی مرکزی اہمیت دی جائے کہ یونی ورسٹیوں کے کرتا دھرتا مل کر یہ طے کریں کہ نئے نظام تعلیم کے ذریعے ہم کیسے افراد تیار کرنا چاہتے ہیں، کن طور طریقوں کو رائج کرنا چاہتے ہیں، ہمارے سامنے تہذیبی قدریں کون سی ہیں اور ہم کیا نصب العین تعلیم کے ذریعے قوم کو دینا چاہتے ہیں؟ پھر ان ساری چیزوں کے متعلق وہ بچوں کے والدین، اخبارات کے ایڈیٹروں، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے کارپردازوں، فلم سازوں اور ناشرین کتب و جرائد اور مشتہرین اور آرٹسٹوں کو آگاہ کردیں کہ ہمارے ان تعلیمی تقاضوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے بلکہ ان کو تقویت بہم پہنچائی جائے۔ اس کے لیے ضروری قانون سازی ہونی چاہیے۔