ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اتحادِ اُمت ، وقت کا تقاضا
[پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق | اپریل ۲۰۲۶ | اُمت مسلمہ] مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہے ہیں جس میں امت کی عمومی بےحسی کی سزا صدیوں تک امت مسلمہ کےدینی، سیاسی اور تہذیبی زوال کا سبب بنی۔ ڈھائی سال پہلے جب غزہ کا چپّہ چپّہ تباہ کردیا گیا اور یہ تباہی ابھی جاری ہے، تو مسلمان حکمرانوں نے تاریخی بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے اہل غزہ سے رسمی طور پر ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اخلاقی اور سیاسی حمایت‘ کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی اداروں کے اندازے کے مطابق صہیونی ریاست اسرائیل کےغزہ پر گرائے گئے بموں کی طاقت جاپان میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم کے مقابلے میں کم ازکم پانچ گنا زیادہ تھی اور تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ تقریباً پانچ کروڑ ٹن ہے جس میں وہ بم بھی شامل ہیں جو پھٹ نہ سکے، جب کہ ملبہ صاف کرنے میں ۱۵ سے ۲۰ سال لگیں گے۔
اسرائیل غزہ اور فلسطینیوں کی شناخت ختم کرنے اور بیت المقدس پر مکمل قبضہ کرکے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے پر تیزی سے کارفرما ہے۔ بظاہر ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو اس کے راستے میں حائل ہے۔ اب امریکا اور اسرائیل نے مل کر مختلف بہانوں سے ایران کے خلاف جنگ شروع کردی ہے۔ غزہ کی طرح یہاں بھی تمام انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جارہاہے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بدقسمتی سے ایران کے معاملے میں بھی مسلمان حکمرانوں کا رویہ غزہ کے سانحے سے کم نہیں ۔ امریکا مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حفاظت کے بہا نے انھیں بھی اس جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس نازک موڑ پر امت مسلمہ کے اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے ،حالیہ تاریخ میں شاید اس سے پہلےکبھی نہ تھی۔
ارشاد خداوندی ہے: <<وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۰۠(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳)>> ’’سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ اس آیتِ مبارکہ کی تشریح میں مولانا مودویؒ فرماتے ہیں:’’اللہ کی رسّی سے مراد اس کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسّی کو ’مضبوط پکڑنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ’دین‘ کی ہو، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رُونما ہوجائے گا جو اس سے پہلے انبیا علیہم السلام کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کر کے دنیا اور آخرت کی رُسوائیوں میں مبتلا کرچکا ہے‘‘۔(تفہیم القرآن، جلداوّل، ص ۲۷۶-۲۷۷)
تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان قرآن و سنت کے سائے میں متحد رہے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں عزت، قوت اور سربلندی نصیب فرمائی، اور جب باہمی اختلاف اور تفرقہ نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی تو کمزوری اور زوال ان کا مقدر بنا۔عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے۔ اتحاد کمزور پڑنے کے سبب مسائل اور مصائب نے جنم لیا۔ آج مشرقِ ِ وسطیٰ میں بالخصوص اور دیگر مسلم خطوں میں پائے جانے والے سیاسی و مسلکی اختلافات، داخلی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد نے امت کو کمزور کررکھا ہے۔ اس صورتِ حال سے بیرونی قوتیں فائدہ اٹھارہی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں دوبارہ اخوت، اتحاد اور باہمی تعاون کے راستے کی طرف بلاتی ہیں۔ دین اسلام ہی دلوں کو جوڑنے اور معاشروں کو متحد کرنے کی غیر معمولی قوت رکھتا ہے۔ مدینہ منورہ کی تاریخ اس حقیقت کا زندہ نمونہ ہے۔ اسلام سے قبل اوس اور خزرج کے قبائل باہمی دشمنی میں مبتلا تھے، مگر جب اسلام کا نور ان کے دلوں میں اترا تو وہ دشمنی محبت میں بدل گئی اور وہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔
صدافسوس کہ آج مسلمان اُمت ایک کتاب اور ایک رسول کوماننے کے باوجود شیعہ، سُنّی اور کئی دوسرے فرقوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر فرقے میں کئی کئی ذیلی گروہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ اسی حالت کے بارے میں علّامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں