ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
’عقل و خرد‘ اور ’عشق‘
اسی طرح اقبال کی شاعری کا سرسری مطالعہ کرنے والوں پر بھی یہ حقیقت منکشف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ اقبال کے یہاں عقل اور دل، یا خرد اور عشق کے درمیان ایک گہرا تضاد پایا جاتا ہے، جو کئی صورتوں میں شدید تصادم کا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقبال کا ذاتی مسئلہ ہے؟ یا اس چیز کا اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب اورجدید فکر اور مغربی تہذیب سے کوئی تعلق ہے؟
اس سوال کا جواب واضح ہے۔ یہ اقبال کا ذاتی مسئلہ نہیں۔ جدید مغربی تہذیب نے اپنی تاریخ کے ایک مرحلے پر عقل کا ایک خاص تصور وضع کیا اور پھر اسی کی اسیر ہوکر رہ گئی۔ یہ تصور اسلامی فکر میں موجود عقل کے تصور کی تقریباً ضد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری عقل و خرد کی مذمت اور تنقید سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی شاعری میں ان تصورات کے لیے تحقیر کا پہلو بھی ملتا ہے۔ اس کے برعکس عقل و خرد کے مقابلے میں اقبال ’عشق‘ اور ’دل‘ کو لاتے ہیں اور ان دونوں حقیقتوں کا بیان اقبال پر ایک سرشاری اور سرمستی طاری کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کے یہاں عقل و خرد کی مذمت اور تحقیر کیوں پائی جاتی ہے اور اس کی مختلف صورتیں کیا ہیں؟
خِرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے
خدا جانے مجھے کیا ہوگیا ہے
خِرد بیزار دل سے، دل خرد سے
پہلے شعر میں اقبال نے ’خرد‘ پر الزام لگاتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی ہے اور دوسرے شعر میں اپنے اندر برپا معرکے اور اس سے پیدا ہونے والی کیفیت کا ذکر کیا ہے:
عقل ’عیّار‘ ہے ، سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملاّ ہے نہ زاہد نہ حکیم!
آہ! یہ عقلِ زیاں اندیش کیا چالاک ہے
اور تاثر آدمی کا کس قدر بے باک
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
عقل گو آستاں سے دُور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے
عقل کو ملتی نہیں اپنے بتوں سے نجات
عارف و عامی تمام بندۂ لات و منات
خوار ہُوا کس قدر آمِ یزداں صفات
قلب و نظر پر گراں ایسے جہاں کا ثبات
اقبال کے ان شعروں کو پڑھ کر خیال آتا ہے کہ اب ’مجرّدعقل‘ کے خلاف کہنے کو رہ کیا گیا ہوگا؟ لیکن اقبال کا آخری وار سب سے کاری ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
عشق تمام مصطفےٰؐ ، عقل تمام بولہب
اور پھر اس کے بعد مغربی تہذیب سے متعلق اقبال نے کہا ہے:
تڑپ رہا ہے فلاطوں میانِ غیب و حضور
اَزل سے اہلِ خِرد کا مقام ہے اعراف
پھر پوری مغربی تہذیب کی روح کا صرف ایک مصرع میں بیان:
فرنگِ دل کی خرابی خرد کی معموری
دل کی خرابی تو خیر پھر بھی کچھ سمجھ میں آنے والی بات ہے، لیکن ’خرد کی معموری‘ کیا بلا ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ مغربی تہذیب دل کی خرابی میں مبتلا ہونے کے بعد سے صرف عقل کو پالنے پوسنے میں لگی ہوئی ہے۔ یعنی افلاطون تو بے چارہ غیب اور حضور کے درمیان تڑپ ہی رہا تھا مگر اقبال کے زمانے تک آتے آتے مغربی فکر ’غیب‘ سے بے نیاز ہو کر صرف ’حضور‘ پر مرتکز ہوگئی۔
محمد حسن عسکری نے اپنی مشہور تصنیف جدیدیت یعنی ’مغربی فکر کی گمراہیوں کا خاکہ‘ میں لکھا ہے کہ افلاطون تک مغرب ’عقلِ کلّی‘(Intellect) اور ’عقلِ جزوی‘ (Reason) کے فرق سے واقف تھا لیکن اس کے شاگردِ رشید ارسطو کے بعد مغرب اس فرق کو بھولتا چلا گیا اور بالآخر اس نے ’عقلِ جزوی‘ ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ لیکن ان دونوں کا بنیادی فرق کیا ہے؟
’عقل جزوی‘ دراصل تجزیہ کار عقل ہے اور وہ چیزوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے انھیں سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا فہم ادھورا اور تقسیم شدہ ہوتا ہے، شے کی کلّی تفہیم نہیں ہوتی۔ یہ عقل حواس کی فراہم کردہ معلومات سے آگے جانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس ’عقلِ کلّی‘ یا وجدان اور الہام کے ذریعے شے کی پوری حقیقت کو سمجھ لیتی ہے اور اسے تجزیے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔
آپ نے اقبال کے یہاں عقل کی مذمت اور اس کے معنی ملاحظہ کرلیے۔ اب ذرا ان کے یہاں عشق، جنوں اور دل کا بیان بھی دیکھ لیجیے:
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعلِ راہ
کسے خبر کہ جُنوں بھی ہے صاحبِ ادراک
دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری
مِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری
عشق کی اِک جَست نے طے کر دیا قصّہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
دل کی آزادی شہنشاہی، شِکّم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے ، دل یا شکم!
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
غور کیا جائے تو اقبال کے یہاں ’عشق‘ اور’ دل‘ اسلامی تہذیب کے تناظر میں انسانی وجود کی کلیت کے استعارے اور عقلِ کلّی کی علامتیں ہیں۔ چونکہ اقبال کے زمانے تک آتے آتے یہ علامتیں مٹتی جارہی تھیں، اس لیے اقبال نے ان کی بحالی اور انھیں ایک بار پھر زندہ کرنے کے لیے اپنے وجود کی پوری تخلیقی قوت صرف کر دی۔انھوں نے ’عقل اوردل‘ اور ’عقل اور عشق‘ کو ایک دوسرے کےمقابل لاکر دکھایا کہ ہم کیا ہیں اور مغرب اور مغربی فکر کیا ہے؟
پھر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اقبال نے ہر جگہ عقل پر دل اور عشق کی فوقیت ثابت کی ہےاور اپنی تہذیبی روایت پر ہمارا اعتماد بحال کیا ہے۔ دو تہذیبوں کے دو اساسی تصورات کی یہ ’عدم مطابقت‘ اور یہ ’تصادم‘ کلیاتِ اقبال میں تو موجود ہے اور کلیاتِ اقبال کو لگنے والی دیمک تک بھی اس سے آگاہ ہے، مگر افسوس کہ خود مردِ مسلمان اس سے واقف نہیں! اور مردِ مسلماں کی عشق سے محرومی کا نتیجہ یہ بیان کرتے ہیں:
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق