مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایران پر اسرائیلی و امریکی یلغار اور مسلم دُنیا

[ اپریل ۲۰۲۶ | اشارات] ایران پر جاری بلاجواز اسرائیلی اور امریکی حملے اُس وقت شروع کیے گئے جب کہ ایران، امریکا ہی کی دعوت پر اس کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء سے ان حملوں میں ایران کی شہری آبادی، فوجی تنصیبات اور تاریخی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آغاز ہی میں ان دہشت گردانہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ سمیت شہید کر دیا گیا۔ ایران کی فوجی قیادت اور دیگر ذمہ دارانِ ریاست کو نشانہ بناتے ہوئے بچیوں کے ایک اسکول پر حملہ کرکے ۱۸۰ معصوم بچیوں کو بھی شہید کردیا گیا۔

جوابی کارروائی میں ایران نے مقبوضہ فلسطین میں واقع اسرائیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اُن امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جو مختلف عرب ریاستوں میں قائم ہیں۔ اس دوران پٹرول کی ریفائنریوں، جاسوسی کے مراکز اور بحری جہازوں کو زبردست نقصان پہنچا اور عملاً مسلم دُنیا کی سیاسی قیادت تقسیم ہوکر رہ گئی۔ اس عظیم فساد کی بنیاد اسرائیل کاوہ شیطانی منصوبہ ہے، جس کا ہدف مسلم دُنیا کے اتحاد میں دراڑ ڈال کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا، مسلم دُنیا کے وسائل کو ایک ایک کرکے بربادکرنا، اور شہری سطح پر نفرت کو فروغ دے کر ان کی دفاعی قوت کو تباہ کرتے ہوئے وسیع تر اسرائیل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ افسوس کہ مسلم ممالک کی ریاستی اور سیاسی قیادتیں اس پھندے میں سادگی، مجبوری یا حماقت میں پھنستی چلی جاتی نظر آرہی ہیں۔ اگرچہ دُور اندیش حلقے اپنے حکمرانوں کو برابر خبردار کررہے ہیں، مگر افسوس کہ ان آوازوں پر کان کم ہی دھرا جارہا ہے۔

ایران کم از کم گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے براہِ راست امریکی اور اسرائیلی یلغار کا نشانہ بناہوا ہے، اور اس کا واحد قصور ان دو بدمعاش (Rogue) ریاستوں کی نظر میں صرف یہ ہے کہ اس نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا، اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر رہ کر اہل غزہ کی حمایت کا برملا اظہار کیا۔ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی سمجھ دار حکمران کا سا رویہ اپنانے کے بجائے ایک کھلنڈرے، بددماغ، دروغ گو اور ’اپسٹین فائلز‘ کے مطابق اوباش حکمران کی مانند دُنیا کے امن کو مسلسل خطرے میں ڈالنے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ آج پوری دُنیا امن، توانائی اور انصاف کے بحران میں مبتلا ہے۔ جنگ کے پھیل کر بدترین تیسری عالم گیر جنگ میں تبدیل ہوجانے کا خطرہ مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتاہے تو اس کی براہِ راست ذمہ داری امریکا، اسرائیل اور ان بلاواسطہ یا بالواسطہ حلیف یا خاموش طرف دار ریاستی قیادتوں پر آئے گی۔

یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ مسلم دُنیا میں تباہی کے اس سفر کی ایک تاریخ ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے کے فوراً بعد کم از کم پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقے نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی و اسرائیلی ریاستی درندگی کا استقبال کیا، اس چیز نے مسلم دُنیا میں متحرک ففتھ کالم کو بے نقاب کرنے میں مدد کی (حالانکہ دوسری طرف ایران میں حزبِ اختلاف کے لوگ، حکومت کے ساتھ مل کر دفاع کی راہ پر چل رہے ہیں)۔

تاریخ سے بے خبر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اہل مغرب یا مغرب سے متاثر ’جدید انسان‘ مسلمانوں کو تہذیب اور دُنیا کے ساتھ چلنے، بسنے کا سلیقہ سکھانا چاہتا ہے۔ پھر اسی کج فہمی اور مغربی این جی اوز کے زیراثر کچھ نام نہاد ’عالم‘ کہلائے جانے والوں کا ایک ایسا گروہ مسلم دُنیا میں موجود ہے، جو کبھی قرآن کا مفہوم بدلنے کی جسارت کرتا ہے اور کبھی احادیث کے ذخیرے کی بے قدری کرکے مسلمانوں کو اس اثاثے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گروہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم میں، فلسطین پر صہیونیت کے قبضے کو جائز قراردینے کی حماقت کا ارتکاب بھی کرتا رہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ’مغربی اقدار‘ یا مغربی جبر کے زیراثر مسلم آبادیوں میں تابع مہمل حکمران طبقے، اس کے سوا کوئی پہچان نہیں رکھتے کہ ذاتی شہرت و اقتدار اور اس کے تحفظ کے لیے یہود و نصاریٰ کی بستہ برداری کریں۔ اس مقصد کے لیے، ایسے عناصر کی باتوں، گھاتوں اور وارداتوں کا ایندھن اپنے بے اختیار اور مجبور مسلم عوام ہی بنتے ہیں۔

مغرب جو صلیبی جنگوں کے زمانے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری نفرت کی آگ بھڑکاتا چلا آرہا ہے، اس کی سیاسی و مذہبی مقتدرہ کے لیے ہر وہ مسلمان گالی اور تباہی کا مستحق ہے، جو یہود و نصاریٰ کی اس نفرت کا رمز شناس ہے اور اسے سمجھتا ہے۔ مسلم آبادیوں اور مسلم اقوام میں مجموعی طور پر ، اہل مغرب کے اس طرزِعمل کے بارے میں گہرا ذہنی تحفظ پایا جاتا ہے۔ ان کا ضمیر اپنے ہاں پائے جانے والے ایسے لوگوں کی حکمرانی، قیادت اور نام نہاد راہ نمائی کو قبول کرنے کے لیے کبھی دل سے تیار نہیں ہوتا۔

جو مذموم طبقہ، مغرب کی زبان بولتا ہے، اور مغرب ہی کی عینک سے دیکھتے ہوئے اپنے لوگوں پر دھونس جماتا ہے، سازشیں کرتا ہے اور دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اپنوں ہی کو مارتا، تباہ کرتا اور دشنام کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسے مقتدر مگر دشمن کے بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگاروں کے نزدیک ہر وہ باشعورمقامی فرد، جو ایسی ڈاکازانی کو جانتا ہے، اس کے لیے مغربی پالیسی سازوں اور ان کے مقامی طرف داروں نے چند گالیاں تجویز کر رکھی ہیں، جن میں شامل ہیں: انتہاپسند، قدامت پرست، رجعت پسند، بنیادپرست، دقیانوس، اسلامسٹ وغیرہ وغیرہ۔ یہ لیبل چسپاں کرنے کے لیے وہ خود مسلمانوں کے معاشروں سے ایسے افراد تلاش کرتے یا تیار کرلیتے ہیں جو اُن کی ایسی اصطلاحوں کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں۔ انھی میں سے بعض گروہ اسلام کے صحیح تصور کے بجائے گروہی، فرقہ وارانہ، اور انتہاپسندانہ حد تک ظاہر پرستانہ طرزِعمل اختیار کرکے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے منصوبہ سازوں کو کئی گماشتے میسر آجاتے ہیں۔

مغربی جاہلیت اور حاکمیت کی غلامی نہ ماننے والے مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دین و تہذیب کے تحفظ اور اپنے حقِ اختیار کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اور اپنے قومی و قدرتی وسائل کو دشمن کا نوالۂ تر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر وہ دشمن کے طرف داروں بلکہ غدارچہروں کو بھی اچھی طرح جانتے، پہچانتے اور اس پہچان کو اپنی آیندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔

آج ہمارے گردوپیش عالمی سامراجیوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کی بھڑکائی ہوئی آگ سے بلند ہوتے شعلوں میں یہ افسوس ناک منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ اسی منظرکا: ایک شاخسانہ مسلم دُنیا کے ممالک پر آمریتوں اور نام نہاد جمہوریتوں کا دور دورہ ہے، جس میں یہاں کے عوام کی کوئی حصہ داری اور مرضی شامل نہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سامراجی اور مالیاتی لیڈروں کی نمائندگی و سہولت کاری کے لیے ہروقت اور ہرقیمت پر حاضر نااہل قیادت و سیاست کی حاکمیت ہے۔ تیسری جانب مسلم دنیا کے مختلف حصوںپر استعماریوں کی قبضہ گیری کی خونیں رات ہے۔ چوتھی جانب مراکز دانش و تحقیق میں بے عملی اور ابلاغ وراہ نمائی کی فرسودگی ہے۔ پانچویں طرف علما کے طبقے میں ایک گروہ کی فرقہ پرستانہ سوچ اور فساد گردی ہے___ یہ صورتِ حال آگے بڑھتی ہے تو غزہ میں قتل عام، بلقانی مسلم ریاستوں میں خونِ مسلم کی اَرزانی، افریقہ میں مسلم بستیوں کی پامالی اور کشمیر کی طرح کئی مسلم خطوں پر ہونے والے عشروں کا ظلم، خون کی ندیاں بہاتا نظر آتا ہے۔ یہ طغیان بڑھتے بڑھتے ۲۸فروری ۲۰۲۶ء کو ایران پر امریکا و اسرائیل کی وحشیانہ یلغار میں بدل گیا ہے۔

ایران پر صہیونی و مسیحی سیاسی قیادتوں اور فوجی قوتوں کا حملہ بدترین سفاکیت، عالمی مروجہ اصولوں کی پامالی اور انسانیت کی تذلیل کا ایک الم ناک باب ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ ایران ۴۶سالہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایک دفاعی قوت اور قومی یکجہتی کی علامت بن کر اُبھرا ہے۔ تاحال جنگ جاری ہے، اور حتمی نتائج تک پہنچنے میں وقت لگے گا، مگر فی الوقت صاف ظاہر ہے کہ ایران نے ایسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دُنیا بھر کو حیران و ششدر کردیا ہے کہ جس میں کوئی بھی مسلم ملک ایران کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی نہیں دیتا (چند مسلم ممالک محض فاصلے پر رہ کر اظہارِ ہمدردی تک محدود ہیں)۔ لیکن اس کے برعکس مسلم ممالک کے عوام رنگ و نسل اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر ہوکر ایران کے ساتھ ہم آواز ہیں۔ مسلم دُنیا ہی نہیں، مغرب اور مشرق کے عوام بھی ایران کے حقِ دفاع کے طرف دار اور اس ظلم کی مذمت میں اس کے ہم قدم ہیں۔

اسرائیل نے درحقیقت پہلے مصر، سوڈان، امارات، اُردن اور خلیجی ریاستوں کو رام کرکے مسلم یک جہتی کو توڑا، پھر عراق، لیبیا، شام وغیرہ کی فوجی و سیاسی قوت کو ملیامیٹ کیا۔ عالمی صہیونیت کے کاسہ لیس بعض مسلم حکمرانوں نے ’اسلامی تعاون تنظیم‘(OIC) کو ایک مُردہ گھوڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔ عرب ممالک کے معدنی وسائل کی دولت کو اُونچی عمارتوں کی تعمیر، تجارتی کشاکش، عیاشانہ زندگی کے چلن اور نسل پرست انڈیا کے ہاتھوں معیشت و نظم ریاست کو جکڑنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ حاکم تصور کرتے آئے کہ، ہم توامریکا و یورپ کے محبوبِ نظر بن رہے ہیں، حالانکہ وہ سب اس راہ پر چلتے ہوئے اپنے مستقبل کو قبر میں اُتارنے کا عمل ہی کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران انھوں نے اخوان المسلمون اور حماس کو کچلنے کا سامان فراہم کیا، حالانکہ یہی وہ قوت ہے، جس میں مسلمان ملّت کے قدرتی وسائل کو مغربی جاہلیت کے خون آشام منصوبوں سے بچانے کا شعور ہے۔ ان کے برعکس اُن لبرل، سیکولر، قوم پرست طبقوں پر اعتبار کیا جارہا ہے، جو پہلے ہی دین و ایمان مغرب کو بیچ چکے ہیں۔ایسے ہی منافقین نے ایران کی فکری، سیاسی، اور علمی قیادت کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل و امریکا کی مدد کی۔ایسے لوگ نقابوں کے پیچھے چھپے ہوئے آستین کے سانپ ہیں۔