ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
صحابہؓ کا یک رنگ کردار
صحابہؓ کی نجی اور مجلسی زندگی بھی بہت پاکیزہ تھی۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے ظاہروباطن میں یکساں ہوتے ہیں؟ اور کتنے اشخاص ہیں جو اپنی نجی و انفرادی زندگی میں اسی طرح میزان پر پورے اُترتے ہیں جس طرح اپنی مجلسی و اجتماعی زندگی میں؟ بس ایک صحابہؓ کا گروہ ہے جو اپنی انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں میں اس طرح پاکباز ہے کہ متقیون ، مفلحون اور فائزون کے الفاظ انھی پر زیب دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کے یہ دونوں پہلو اِن آیات سے جھلک رہے ہیں:
جو اُٹھتے بیٹھتے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غوروفکر کرتے ہیں۔ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۹۱)
اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انھیں دُور کردے، اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۹۳)
یقینا فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:
اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔
لغویات سے دُور رہتے ہیں۔
زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملکِ یمین میں ہوں کہ ان پر (استفادہ کرنے میں) وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔
اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھتے ہیں۔
اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔(المؤمنون ۲۳:۱-۹)
’مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃدیتے ہیں اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبہ ۹:۷۱)
رحمٰن کے (سچّے) بندے وہ ہیں جو:
زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔
اپنے ربّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔
جو دُعائیں کرتے ہیں، جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں۔
جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔
اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ہیں۔
نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔
جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔
کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔
جنھیں اگر ان کے ربّ کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔ (الفرقان۲۵: ۶۳ - ۷۳)
ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے ربّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔(السجدہ ۳۲:۱۶)
آپؐ کے ربّ کو معلوم ہے کہ آپؐ کے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں۔(المزمل ۷۳:۲۰)
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسولؐ ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو انتہائی سخت ہیں، لیکن آپس میں انتہائی رحم دل اور (شفیق) ہیں۔ (اے دیکھنے والے) تم ان کو دیکھتے ہو کہ خدا کے آگے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ کثرتِ سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں مرقوم ہیں اوریہی اوصاف انجیل میں پائے جاتے ہیں۔(الفتح ۴۸: ۲۹)
اور کمال یہ ہے کہ معاملہ انفرادی نوعیت کا ہو یا اجتماعی نوعیت کا، غفلت کوشی کسی سمت سے راہ نہیں پاتی۔ اپنے مقصد ِ حیات کو وہ کسی وقت فراموش نہیں کرتے۔ اللہ کی یاد ان کے دلوں سے کسی لمحہ محو نہیں ہوتی۔ ہرآن ربّ العالمین کی رضا اور خوشنودی کی طرف ہی قدم بڑھتے ہیں:
ایسے لوگ جنھیں نہ تجارت غفلت میں ڈالتی، نہ خریدوفروخت اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے (باز رکھتی)۔وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (النور ۲۴:۳۷)
پس سیرت و کردار کا یہی وہ نمونہ ہے جس کے متعلق مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے: ’’ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پاجائو گے‘‘۔