مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نظم لا الٰہ اِلَّا اللہ اور مغربی تہذیب

سلیم احمد نے اپنی تنقیدی کتاب اقبال __ ایک شاعر میں اقبال کی نظم ’لا الٰہ الا اللہ‘ کو اقبال کی شاعری کی ’سورۂ اخلاص‘ قرار دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں الٰہیات یا تصورِ توحید کے حوالے سے سورۂ اخلاص کی جو اہمیت ہے، وہی اہمیت اقبال کی شاعری میں مذکورہ نظم کو حاصل ہے۔ یہی اقبال کی شاعری کا الٰہیاتی پہلو یا Ontological Dimension ہے۔ یہ نظم آپ نے سیکڑوں بار پڑھی یا سنی ہوگی۔ آج ایک بار پھر پڑھ لیجیے:

خودی کا سِرِّ نہاں لا الٰہ الا اللہ

خودی ہے تیغ ، فساں لا الٰہ الا اللہ

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں ، لا الٰہ الا اللہ

کیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودا

فریبِ سُود و زیاں ، لا الٰہ الا اللہ

یہ مال و دولتِ دنیا ، یہ رشتہ و پیوند

بُتانِ وہم و گماں ، لا الٰہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُنّاری

نہ ہے زماں نہ مکاں ، لا الٰہ الا اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں ، لا الٰہ الا اللہ

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکمِ اذاں ، لا الٰہ الا اللہ

گمان ہے کہ سات شعروں پر مشتمل اس نظم کے معنی سبھی کو معلوم ہوں گے، لیکن جن لوگوں کے لیے نظم کی تفہیم میں کوئی مشکل ہے، ان کے لیے نظم کو آسان کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ شاید یہ ہے کہ ہر شعر کو الگ الگ نثر کے قالب میں ڈھال لیا جائے:

۱- ’خودی‘ یعنی Selfکا پوشیدہ اسرار (Hidden Mystery)یہ ہے: نہیں ہے کوئی الٰہ سوائے اللہ کے۔ خودی اگر تلوار ہے تو لا الٰہ الا اللہ اس کی دھار ہے۔

۲- ہمارے زمانے کو اپنے ابراہیم کی تلاش ہے، اس لیے کہ جہاں بت خانہ ہوگا، وہاں لا الٰہ الا اللہ کی صدا ضرور بلند ہوگی۔

۳- تُو نے فائدے اور نقصان کے دھوکے میں پڑ کر (ملّی) وقار کا سودا کرلیا اور سمجھ لیا کہ فائدہ باقی رہنے والا ہے۔ حالانکہ باقی رہنے والی حقیقت تو صرف لا الٰہ الا اللہ ہے۔

۴- دنیا کا سارا مال و متاع اور اس سے تعلق کی صورتیں وہم و گمان کے بتوں کے سوا کچھ نہیں۔

۵- عقل نے زمان و مکان کے تصور کو پوجنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ زمان و مکان کا وجود ہی نہیں۔

۶- لا الٰہ الا اللہ کی شہادت حالات کی محتاج نہیں۔ حالات اچھے ہوں یا بُرے، اس حقیقت کی گواہی لازم ہے۔

۷- خبردار رہ، کسی بھی اجتماعیت سے وابستگی میں خطرات ہیں۔ مت بھول کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ یعنی کسی بھی اجتماعیت کو اپنے لیے الٰہ نہ بنا لینا۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس نظم میں ماجرا کیا پیش آیا ہے۔چنانچہ اقبال نے لا الٰہ الا اللہ کو ایک کسوٹی اور پیمانہ بنا کر پیش کیا ہے اور نظم میں جدید مغربی تہذیب کے پورے تہذیبی اور فکری کینوس کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔

اقبال کی شاعری میں ’خودی کا تصور‘ بنیادی اور اسلامی فکر سے ماخوذ ہے۔ لیکن اقبال کو معلوم ہے کہ جدید مغربی تہذیب بھی ’خودی‘ یا Selfکا ایک تصور رکھتی ہے اور یہ تصور بھی مغربی تہذیب کے دائرے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ مغرب میں اس حوالے سے ’سماجی اَنا‘ (Social Self) اور ’اقتصادی اَنا‘ (Economic Self) کی اصطلاحیں ملتی ہیں، وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’انسانی اَنا‘ کی جڑیں سماجیات اور معاشیات میں پیوست ہوسکتی ہیں۔ لیکن اقبال اس Selfکو مصنوعی یا کم سے کم ’ثانوی اَنا‘ سمجھتے ہیں اور اس نظم کے پہلے شعر میں دونوں تصورات کا ایک موازنہ (Contrast) وجود میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں کہ حقیقی خودی کا راز لا الٰہ الا اللہ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ثانوی اَنا‘ اگر تلوار ہے تو لا الٰہ الا اللہ اس کی دھار ہے اور جب تک انسان کو یہ دھار فراہم نہ ہو، انسان کا بچنا محال ہے۔ اس بحث کے ڈانڈے لفظِ شخصیت (Personality)کے معنی کی بحث سے بھی جا ملتے ہیں۔

شخصیت (Persona) مغربی تہذیب میں نظر آتے اُس ’ماسک‘ زدہ چہرے کوکہتے ہیں، جو ادکار اسٹیج پر اداکاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس لیے شخصیت ایک اوڑھی ہوئی چیز ہے اور اس کا اصل ’اَنا‘ اور ’خودی‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ اقبال نے نظم کے دوسرے شعر میں اس عہد کے تصورات کو بت خانہ قرار دیا ہے اور ابراہیم کی تلمیح کے استعمال سے پیغمبرانہ روایت سے رجوع کی اہمیت واضح کی ہے۔ اس لیے کہ کفر اور شرک کا علاج، کسی چھوٹے کفر اور شرک کے مقابلے پر بڑا کفر یا شرک لانے سے نہیں ہوسکتا، اس کا علاج تو صرف ایمان بالغیب ہے۔

تیسرے شعر میں اصل مسئلہ ’فریبِ سود و زیاں‘ کا ہے۔ جدید مغربی فکر نے پوری دنیا میں افادیت پسندی کی وبا عام کر دی ہے اور افادیت پسندی کا فائدے اور نقصانات کے عمومی تصور سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک باضابطہ فلسفہ ہے، جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ انسان کو وہی کام کرنا چاہیے جس میں فائدہ ہو۔ یعنی فی نفسہٖ نہ کوئی کام اچھا ہے نہ بُرا ہے اور نہ مطلق نیکی کا وجود ہے نہ مطلق برائی کا بلکہ صرف فائدہ ہی قابلِ لحاظ ’قدر‘ ہے۔ یہ ضابطہ اقبال کے دور میں فلسفہ تھا، اب ہمارا تجربہ و مشاہدہ ہے۔ چنانچہ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ دنیا ایک دھوکا ہے اور اس کے چکر میں پڑ کر تو انفرادی یا اجتماعی وقار کا سودا نہ کر۔ کیونکہ فائدہ اور نقصان تو وہی ہے جس کو خدا نے فائدہ یا نقصان قراردیا ہے، چاہے خدا کے بتائے ہوئے فائدے میں بظاہر تجھے نقصان ہی ہو رہا ہو۔

خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ہر اُمت کا ایک فتنہ ہے اور میری اُمت کا فتنہ مال ہے اور مال کا فتنہ دنیا کی محبت سے پیدا ہوتا ہے اور دنیا کی محبت آل اولاد کی محبت سے جنم لیتی ہے‘‘۔ اقبال نے چوتھے شعر میں ان تمام کو وہم و گمان کے ’بُت‘ قرار دیتے ہوئے ان پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے اور ہمیں اصل حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اقبال کے زمانے میں یہ فتنہ اس لیے اہم ہوگیا تھا کہ مسلمان غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اقتصادی مشکلات نے مسلمانوں کو گویا تاک لیا تھا۔

اقبال کے عہد کی ایک خاص بات زمان و مکان کا وہ مغربی فلسفہ تھا، جو مادے اور وقت کو خدا کے مقام پر فائز کر چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ کے لیے انسان کو اب خدا کے تصور کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ اگرچہ یہ مغربی فلسفہ تھا، لیکن نو آبادیاتی دور میں یورپی اقوام ساری دنیا پر مسلط تھیں اور ان کے توسط سے یہ فلسفہ ساری دنیا میں عام ہو رہا تھا اور اس نے ایک بڑے فکری بت کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔

اسلامی فکریات میں خدا کا ’ارادہ‘ اور اس کی ’مشیت‘ نہ کسی زمان (Time)کی پابند ہے نہ مکان (Space)کی۔ وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے۔ معجزے کا اصول یہی ہے۔ لیکن جدید مغربی فکر انسان کو معجزے کی روایت سے کاٹ کر اس کی عقل کو علت و معلول کا اسیر بناچکی تھی۔ اقبال کے نزدیک ’خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری‘ کا یہی مفہوم ہے۔

یورپی اقوام کی غلامی اور سیاسی زوال نے مسلمانوں کو اس اندیشے میں مبتلا کر دیا تھا کہ نعوذ باللہ کہیں ان کا دین بھی تو ’زمانی‘ نہیں تھا اور یہ کہ کہیں کلمۂ حق کی شہادت کے تقاضے بھی تو آزادی سے مخصوص نہیں تھے۔ اقبال نے انھیں یاد دلایا کہ اس اندیشے کی کوئی اصل نہیں۔ مسلمان جس حال میں بھی ہوں، ان پر شہادتِ حق واجب ہے ’’بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ‘‘۔

اقبال کے آخری شعر میں ’جماعت‘ سے مراد گروہ بھی ہے، مسلک بھی، فرقہ بھی ہے، تنظیم بھی، قوم بھی، قبیلہ و ریاست بھی ہے اور محض ادارہ بھی۔ یہاں تک کہ اس کا اطلاق رنگ اور نسل پر بھی ہوتا ہے۔ اقبال کا عہد تو یوں بھی قوم پرستی اور نسل پرستی کا دور تھا اور یہ بلائیں مغرب سے آئی تھیں۔ یہ بلائیں موجود تو اس سے پہلے بھی رہی ہیں، لیکن مغرب نے انھیں فکری اور فلسفیانہ بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، چنانچہ یہ اور بھی خطرناک ہوگئی تھیں۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام ماورائے قومیت، رنگ، نسل ایک حقیقت ہے، چنانچہ مسلمان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ کسی ایک دائرے میں محدود ہو کر اس کے مفادات کا ترجمان اور نگہبان بن جائے۔

آپ نے دیکھا کہ اقبال کی اس چھوٹی سی نظم میں کس بلا کا تہذیبی معرکہ برپا ہوا ہے اور دوتہذیبیں کیسی ہولناک عدم مطابقت کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔