ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اُمت کا انتشار
آج اُمتِ مسلمہ میں کہیں مسلکی تعصب ہے، کہیں جماعتی تعصب اور کہیں نسلی اور لسانی تقسیم۔ ان چیزوں نے اُمت کو متحد ہونے کے بجائے باہم دست و گریبان کردیا ہے۔ ان تعصبات اور اَنانیت کی جنگوں نے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، حالانکہ قرآن واضح حکم دیتا ہے <<وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۰۠ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۰۳ )>> ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور منتشر نہ ہوجائو‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن تو آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ (بخاری )
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی اندرونی چپقلش ۱۲۵۸ء میں سقوط بغداد کا سبب بنی جب منگولوں نے بغداد پر قبضہ کیا، اسی طرح ۱۴۹۲ء میں سقوطِ اُندلس دیکھنا پڑا جب تقریباً ۸۰۰ سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہم نے اُندلس پلیٹ میں رکھ کر عیسائیوں کو پیش کیا۔ اسی طرح ۱۷۵۷ء میں پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شکست دی اور یوں برِّ صغیر میں باقاعدہ برطانوی سیاسی بالادستی کی بنیاد پڑی۔ ۱۸۵۷ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور برطانوی راج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اور پہلی عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۴ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمہ نے ایک علامتی اتحاد کی دھجیاں بھی بکھیر دیں۔ ماضی قریب میں دیکھیں تو افغانستان، عراق، کشمیر، لیبیا، شام، یمن، فلسطین ، سوڈان اور اب ایران ہمارے انتشار کی بد ترین مثالیں ہیں۔
یاد رکھیے! جب دل ایک نہ ہوں، نیتیں صاف نہ ہوں، اور ہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں تو اجتماعیت کے لیے کی گئی دعاؤں میں وہ تاثیر کیسے پیدا ہوگی؟ اختلافِ رائے فطری ہے، مگر دلوں کی دوری اور دشمنی تباہ کن ہے۔ جب تک اُمت اپنے دل صاف نہیں کرے گی، ایک دوسرے کو معاف کرنا نہیں سیکھے گی اور مشترکہ مقاصد پر جمع نہیں ہوگی، تب تک اجتماعیت کے لیے دعا میں وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اتحاد برکت لاتا ہے، اور انتشار دُعاؤں کی قبولیت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔