ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔
شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
معاشرتی بگاڑ کے اسباب
پھر اگر یہ دیکھا جائے کہ ’ہمارے ماحول میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کون سے ہیں؟‘ توسرسری طور پر یہ کہا جاسکتا ہے:
۱- ملکی اور غیرملکی پریس کا نگارشاتی، تصویری اور نشریاتی مواد۔
۲- الیکٹرانک نشریات کے وہ پروگرام جن کی اکثریت یا تو تفریحی مواد پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں کوئی حدود و قیود نہیں، حالانکہ ہمارے پاس اسلام کے دیئے ہوئے معیارات، جو زندگی کے ہرمعاملے میں موجود ہیں، یا ایسے پروگرام جن میں حقیقتیں، چاہے وہ قرآن و حدیث کی ہوں، ایسے دلچسپ اور لطیف انداز میں لانے کی کوششیں جس کی وجہ سے عوام متوجہ ہوں۔ انھیں سوچنے اور بروئے کار لانے کی کوشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس کے برعکس عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کی اندھی اور بداخلاقی پر لگی دوڑ میں حکمت اور حیا دونوں برباد ہورہے ہیں۔ اس طرح ٹیلی ویژن اور میڈیا، سو وہ تو ہرگھر میں ایک پروفیسر یا ڈاکٹر کی طرح ڈیوٹی کے لیے موجود رہتا ہے۔ وہ لفظ، طور طریقے، ہنسی مذاق، رقص و سُرود، بے حیائی اور بے پردگی، فیشن اور اَطوار جو ان کو سکھانا چاہے سکھا رہا ہے۔ ان سے ماں باپ بچوں کو نہیں بچاسکتے ہیں بلکہ وہ تو خود اسی مدرسے کے طالب علم ہیں۔ نہ مسجد کی اذان، نہ قرآن کے سبق ۔ مغربی الحاد اور اس سے پیدا ہونے والی تہذیب نے ہمارے گھروں میں کیمپ لگا دیئے ہیں۔
۳- تیسرا سبب ماں کی گود اور باپ کے سایۂ شفقت میں جو بنیادی درس حاصل کرنا ضروری تھا، اس کا سلسلہ دونوں کی ملازمت نے یا پھر میڈیا دیکھنے کی مشغولیتوں نے ختم کر دیا۔
۴- اشتہارات کی یلغار، ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کی تصاویر بھی نئی نسل پر اثر ڈالتی ہیں۔
۵- بچوں کے، لڑکوں اور نوجوانوں کے لیے ان کی عمروں کے مطابق اور ان کی دلچسپیوں کا خیال رکھ کر کافی لٹریچر کا موجود نہ ہونا۔
۶- نظامِ تعلیم کا مغربی نظریہ الحاد و مادہ پرستی پر مبنی، تاریخ، ادب، اجتماعیات، معاشیات، نفسیات، سائنس وغیرہ کا نصابی سلسلۂ کتب ایسا مہیا کرنا، جو ہمارے طلبہ کے نظامِ عقائد میں خلل ڈال کر غلط افکار کا انھیں قائل بنالینا اور مذہبی جذبے کو ذبح کردینا یا پَر نوچ کر شدید مجروح کردینا۔ پھر جو نصابی کتابیں انھی کتابوں سے مواد لے کر لکھی جاتی ہیں، یا گائیڈبکس وغیرہ سب وہی کام کرتی ہیں۔ ستم یہ کہ مغربی افکار و علوم کے ہرشعبہ اور ہراہم مصنف یا کتاب کے متعلق ایسا تنقیدی لٹریچر ہماری قوم پیدا نہیں کرسکی، جو بیرونی افکار سے آویزش پیدا کردیتا، تو ہمارے نوجوان اور ضمناً حکمران اور لیڈر اور عوام سوفی صدی سرینڈر تو نہ کردیتے۔
۷- مجموعی معاشرہ (جس کا پہلا یونٹ محلّہ ہوتا ہے) پورے کا پورا ایک درس گاہ ہے ، جو چوبیس گھنٹے کام کرتی رہتی ہے۔ ہربچہ اور ہرنوجوان اس کے اندر سے نہ صرف گزرتا بلکہ اس میں گھرا رہتا ہے۔ اس معاشرے کے بازار میں گالی سے لے کر گولی تک اور جھوٹ سے لے کر لوٹ مار تک، غلاظت سے لے کر عدم تحفظ تک، ایک عجب زندگی کا ہر سودا چاروں طرف سجا ہوا موجود ہے۔ یا یہ کہیے کہ سبق لکھے ہوئے ہیں، سڑک پر چلتے ہوئے، کسی دکان سے سودا لیتے ہوئے، کسی طعام گاہ میں کھانا کھاتے ہوئے، وہ جو کچھ سنتا، دیکھتا اور بھگتتا ہے، یہ کتابی دُنیا سے زیادہ مختلف اور مؤثر ہوتا ہے۔ اس کے سامنے انتخابات ہوتے ہیں۔ وہ لیڈروں کے بیانات پڑھتا ہے، اسمبلی کی بحثوں کی اسے خبر ملتی ہے، باہر سے آنے والے وفود کا اسے علم ہوتا ہے۔ لوگوںکو دنگافساد کرتے دیکھتا ہے، جلوسوں کی توڑپھوڑ اس کے سامنے آتی ہے، وہ انتہائی امیروں کو اور بھکاری بچّے کو بھی دیکھتا ہے۔ غرضیکہ کہاں تک بیان کیا جائے، وہ آہستہ آہستہ عملی زندگی کی کتاب پڑھ لیتا ہے۔ کبھی گھر میں وہ جھوٹ اور وعدہ خلافی کی باتیں سنتاہے، کبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ آج ابّو رشوت کی مٹھائی لائے ہیں، کبھی اس کے سامنے مذہب یا آخرت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔
یہ سب وہ طریقے ہیں جن سے معاشرہ اپنے افراد کو ایک خاص نہج پر ڈھالتا ہے۔ شاذونادر بعض افراد اس کی غلاظتوں اور پستیوں سے بچ نکلتے اور تھوڑا بہت اصلاح و خدمت کا کام کرتے ہیں۔
یہ سب عناصر ہمارے فکروعمل اور ہمارے عقائد و نظریات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ عقائد اگر بے جان، خوابیدہ، دھندلے اور یقینِ کامل کی روح سے خالی ہوجائیں تو وہ کوئی اثر نہیں ڈال سکتے۔ ہاں، اگر وہ زندہ ہوں، بیدار ہوں، روشن ہوں، ایمانی مرتبے پر ہوں، تو وہ ہمارے تمام افکار و اعمال کی جڑیں بن جاتے ہیں اور ان کی دی ہوئی غذا سے ساری زندگی نشوونما پاتی ہے۔ جو لوگ مسلمان رہ کر بھی غیراسلامی زندگی گزارتے ہیں، ان کے اصل عقائد زندہ و بیدار نہیں رہتے، لہٰذا دوسرے نظاموں کے عقائد اور تہذیبوں کے اثرات خاموشی سے آکر ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔