مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (اپریل 2026) کا شمارہ ہے، جس کا مرکزی موضوع ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت اور اس کے مسلم دنیا پر اثرات ہیں۔

شمارے میں صحابہ کرامؓ کی سیرت، رمضان و عید کے اخلاقی اسباق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب، اور فتح و نصرت کے قرآنی تصور پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کی مذہبی و سیاسی صورتحال، خاص طور پر آسیہ اندرابی سے متعلق مقدمے پر تفصیلی رپورٹیں بھی درج ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

زمین ربّ کی ، نظام کسی اور کا

اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو تخلیق کیا ، یقیناً اس کے زیر و بم سے بھی وہی واقف ہے۔ اسی لیے اُس نے کائنات تخلیق کرکے اُسے عبث نہیں چھوڑا بلکہ اُس کے تکوینی اور اختیاری نظام کی ہدایات بھی اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے بنی نوع انسان کو فراہم کیں۔ پھر اس کا اعلان قرآن پاک میں خود ہی کردیا کہ <<اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ (الاعراف۷:۵۴)>> ’’خبردار! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم دینا بھی اسی کا حق ہے‘‘۔ مگر انسان نے خالق کے نظام کو پسِ پشت ڈال کر اپنے بنائے ہوئے نظاموں کو معیار بنالیا ہے۔ معیشت سود پر، سیاست مفاد پر، معاشرت خواہش پر اور اخلاقیات مادّی فائدے پر کھڑی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: <<وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۝۴۴ ……وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۴۵ …… وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝۴۷ (المائدہ۵:۴۴-۴۵ ، ۴۷)>> ’’جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں… وہی ظالم ہیں… وہی فاسق ہیں‘‘۔

اس باب میں مفکّرِاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:’’جب حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دیں تو اسلام کا پہلا مضبوط بندھن ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۔ صاحبِ تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ ’’ اسلام دراصل ایک مکمل نظام زندگی ہے جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاشرت، معیشت، عدالت، حکومت سب شامل ہیں‘‘۔ جب تک یہ سب چیزیں قائم رہیں، اسلام ایک مکمل نظام کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ آج بدقسمتی سے کیفیت یہ ہے کہ مسلم اُمہ یہ بات بھول بیٹھی ہے یا دوسری اقوام کی طرح یاد رکھنا بھی نہیں چاہتی کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو عقیدہ و خیال سے لے کر عبادات تک کا خوشبودار گلدستہ ہے۔جتنی بھی مسلم حکومتیں ہیں کوئی بھی اسلام کے نظام کا عملی نمونہ نہیں ہے۔

ہمارا حال ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی بیماری سے صحت یابی کے لیے کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروائے مگرجب ڈاکٹر اُس کے لیے کوئی نسخہ تجویز کرے تو اُس نسخہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مرضی کی دوائیں کھاتا رہے اور پھر شفا کی اُمید رکھے۔ اب بتائیےاُسے شفا کہاں سے ملے گی؟ لہٰذا دُعا اور عمل میں ہم آہنگی اتنی ہی ضروری ہے جتنا ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق دوائی کا استعمال ضروری ہے۔ جب تک فرد اور معاشرہ اللہ کے دیے ہوئے نظام کی تعلیمات کو اپنائے بغیر صرف الفاظ کی دعائیں کرتا رہے گا، قبولیت کی راہیں تنگ رہیں گی۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ زندگی کے نظام میں بھی رب کی حاکمیت کو جگہ دی جائے!