اکبر کے سرپرست بیرم خان کی قیادت میں مغل فوج نے ہیمو کو شکست دی اور نوعمر اکبر کے لیے تخت مستحکم ہوا۔
بابر کے بعد ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے 1540ء میں شکست دے کر ہندوستان سے نکال دیا، اور مغل سلطنت کو عارضی طور پر ختم ہونا پڑا۔ ہمایوں نے ایران کی مدد سے 1555ء میں دہلی واپس لی مگر ایک برس بعد سیڑھیوں سے گر کر وفات پا گئے، اور تیرہ سالہ اکبر تخت نشین ہوئے۔
اس وقت سوری خاندان کے وزیر ہیمو (ہیمچندر وکرمادتیہ) نے دہلی پر قبضہ کر کے خود کو حکمران قرار دے دیا تھا۔ 5 نومبر 1556ء کو پانی پت میں اکبر کے سرپرست بیرم خان کی قیادت میں مغل فوج نے ہیمو کی بڑی فوج کو شکست دی؛ ہیمو ایک تیر لگنے سے بے ہوش ہوا، گرفتار اور پھر مارا گیا۔
اس فتح نے مغل اقتدار کو مستحکم کر دیا اور اکبر کے طویل دور کی راہ ہموار کی، جس میں مضبوط انتظامی نظام، منصب داری، رواداری اور فنون کی سرپرستی کے ذریعے سلطنت نے ترقی کی۔