امیر تیمور کی فوجی مہمات سے قائم ہونے والی وسیع سلطنت، جس نے وسطی ایشیا، ایران اور شمالی ہند تک اثر و رسوخ پھیلایا۔ سمرقند اور ہرات اس دور میں فنِ تعمیر اور علم کے عظیم مراکز بنے۔
تاریخی تسلسل
- سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
- سلطنتِ تیموریہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
امیر تیمور نے فوجی صلاحیت اور مسلسل مہمات کے ذریعے وسطی ایشیا کی بکھری ہوئی ترک و منگول سلطنتوں کو یکجا کیا اور دہلی سے دمشق تک وسیع فتوحات حاصل کیں۔
زوال کے اسباب
امیر تیمور کی وفات کے بعد جانشینوں میں سلطنت تقسیم ہوتی گئی؛ ہرات میں علم و فن کا تسلسل جاری رہا، مگر سولہویں صدی کے آغاز میں ازبک قبائل کے حملوں سے سلطنت کا خاتمہ ہوا — تاہم تیموری نسل ہی سے ظہیر الدین بابر نے بعد میں ہندوستان میں مغلیہ سلطنت قائم کی۔
حکمران (9)
امیر تیمور
1370ء – 1405ءوسیع فوجی فتوحات کے ذریعے سلطنت کی بنیاد رکھی۔
خلیل سلطان
1405ء – 1409ءسمرقند میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
شاہ رخ
1405ء – 1447ءدارالحکومت ہرات منتقل کیا اور علم و فن کی سرپرستی کی۔
الغ بیگ
1447ء – 1449ءماہرِ فلکیات و ریاضی حکمران، سمرقند میں مشہور رصد گاہ تعمیر کروائی۔
عبداللطیف
1449ء – 1450ءوالد الغ بیگ کے قتل کے بعد مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
ابوسعید مرزا
1451ء – 1469ءماوراءالنہر میں تیموری اقتدار کو دوبارہ متحد کیا۔
سلطان احمد مرزا (سمرقند)
1469ء – 1494ءسمرقند شاخ کے حکمران رہے۔
سلطان حسین بایقرا (ہرات)
1469ء – 1506ءہرات کو علم، شاعری (امیر علی شیر نوائی) اور مصوری (کمال الدین بہزاد) کے عروج کا مرکز بنایا۔
بدیع الزماں مرزا (ہرات)
1506ء – 1507ءآخری ہراتی تیموری حکمران — 1507ء میں ازبک قبائل کے قبضے پر خاندان کی ماوراءالنہر و خراسان میں حکمرانی ختم ہوئی۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
سلطنت امیر تیمور کی وفات کے بعد سمرقند اور ہرات کی دو متوازی شاخوں میں بٹ گئی تھی — یہاں دونوں شاخوں کے نمایاں حکمران شامل کیے گئے ہیں۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔