مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · ایران و وسطی ایشیا

سلطنتِ تیموریہ

الدولة التيمورية

1370ء (771ھ) – 1507ء (913ھ)137 برس

آغاز1370ء (771ھ)
اختتام1507ء (913ھ)
مدت137 برس
خطہایران و وسطی ایشیا
بانیامیر تیمور (تیمورلنگ)
دارالحکومتسمرقند، بعد میں ہرات

امیر تیمور کی فوجی مہمات سے قائم ہونے والی وسیع سلطنت، جس نے وسطی ایشیا، ایران اور شمالی ہند تک اثر و رسوخ پھیلایا۔ سمرقند اور ہرات اس دور میں فنِ تعمیر اور علم کے عظیم مراکز بنے۔

تاریخی تسلسل

  1. سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
  2. سلطنتِ تیموریہ

عروج کے اسباب

امیر تیمور نے فوجی صلاحیت اور مسلسل مہمات کے ذریعے وسطی ایشیا کی بکھری ہوئی ترک و منگول سلطنتوں کو یکجا کیا اور دہلی سے دمشق تک وسیع فتوحات حاصل کیں۔

زوال کے اسباب

امیر تیمور کی وفات کے بعد جانشینوں میں سلطنت تقسیم ہوتی گئی؛ ہرات میں علم و فن کا تسلسل جاری رہا، مگر سولہویں صدی کے آغاز میں ازبک قبائل کے حملوں سے سلطنت کا خاتمہ ہوا — تاہم تیموری نسل ہی سے ظہیر الدین بابر نے بعد میں ہندوستان میں مغلیہ سلطنت قائم کی۔

حکمران (9)

  1. امیر تیمور

    1370ء – 1405ء

    وسیع فوجی فتوحات کے ذریعے سلطنت کی بنیاد رکھی۔

  2. خلیل سلطان

    1405ء – 1409ء

    سمرقند میں مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  3. شاہ رخ

    1405ء – 1447ء

    دارالحکومت ہرات منتقل کیا اور علم و فن کی سرپرستی کی۔

  4. الغ بیگ

    1447ء – 1449ء

    ماہرِ فلکیات و ریاضی حکمران، سمرقند میں مشہور رصد گاہ تعمیر کروائی۔

  5. عبداللطیف

    1449ء – 1450ء

    والد الغ بیگ کے قتل کے بعد مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  6. ابوسعید مرزا

    1451ء – 1469ء

    ماوراءالنہر میں تیموری اقتدار کو دوبارہ متحد کیا۔

  7. سلطان احمد مرزا (سمرقند)

    1469ء – 1494ء

    سمرقند شاخ کے حکمران رہے۔

  8. ہرات کو علم، شاعری (امیر علی شیر نوائی) اور مصوری (کمال الدین بہزاد) کے عروج کا مرکز بنایا۔

  9. بدیع الزماں مرزا (ہرات)

    1506ء – 1507ء

    آخری ہراتی تیموری حکمران — 1507ء میں ازبک قبائل کے قبضے پر خاندان کی ماوراءالنہر و خراسان میں حکمرانی ختم ہوئی۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

سلطنت امیر تیمور کی وفات کے بعد سمرقند اور ہرات کی دو متوازی شاخوں میں بٹ گئی تھی — یہاں دونوں شاخوں کے نمایاں حکمران شامل کیے گئے ہیں۔