مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

اصلاحی تحریک کا آغاز

1818ء–1820ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1818ء–1820ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

دہلی واپسی پر شاہ اسماعیل دہلویؒ اور مولانا عبدالحی بڈھانویؒ نے سید احمد کے ہاتھ پر بیعت کی، اور شمالی ہند کے دورے کر کے شرک و بدعات کے خاتمے اور احیائے سنت کی دعوت شروع ہوئی۔

دہلی واپس آنے پر سید احمد نے اپنی اصلاحی دعوت کا آغاز کیا۔ ان کے نمایاں رفقا میں شاہ اسماعیل دہلویؒ (شاہ ولی اللہؒ کے پوتے) اور مولانا عبدالحی بڈھانویؒ شامل تھے، جنہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ شاہ عبدالعزیزؒ کی بھی دعائیں اور تائید اس تحریک کے ساتھ رہی۔

اس دعوت کا بنیادی نکتہ توحید کی خالص تعلیم، شرک و بدعات سے اجتناب، شادی بیاہ اور موت کی غیر شرعی رسوم کا خاتمہ، اور سنتِ نبوی پر عمل تھا۔ سید احمد اور ان کے ساتھی شمالی ہند کے کئی شہروں (کان پور، لکھنؤ، الہ آباد، بنارس وغیرہ) میں گئے، وعظ کیے اور ہزاروں لوگوں نے بیعت کر کے اصلاح کی راہ اختیار کی۔

اس اصلاحی مرحلے نے ایک وسیع مگر منظم جماعت پیدا کی، جو بعد میں جہاد کے لیے سرحد کی طرف روانہ ہوئی۔ یہ اصلاح اور جہاد کے تعلق کی وہ روایت ہے جو سید احمد کی تحریک کی سب سے نمایاں پہچان ہے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں