احمد شاہ ابدالیؒ نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی دعوت پر مرہٹوں کو شکستِ فاش دی اور شمالی ہند میں ان کے عروج کو روک دیا۔
اٹھارہویں صدی میں مغل مرکز کے کمزور ہونے کے بعد مرہٹے شمالی ہند میں تیزی سے پھیلے اور دہلی تک ان کا اثر پہنچا، جس سے مسلمان امرا اور علما کو شدید خدشات لاحق ہوئے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے افغان حکمران احمد شاہ ابدالی کو خط لکھ کر ہندوستان آنے اور مسلمانوں کی مدد کی دعوت دی، جسے روہیلہ سردار نجیب الدولہ اور اودھ کے نواب شجاع الدولہ کی حمایت حاصل ہوئی۔
14 جنوری 1761ء کو پانی پت میں احمد شاہ ابدالی کی افغان فوج اور مرہٹوں کی بڑی فوج کے درمیان معرکہ ہوا۔ مرہٹہ سردار سداشیو راؤ بھاؤ کی فوج کو شکستِ فاش ہوئی اور ہزاروں سپاہی اور غیر عسکری زائرین مارے گئے۔
اس جنگ نے مرہٹہ طاقت کو کمزور کیا، مگر ابدالی واپس افغانستان چلے گئے اور مغل اقتدار بحال نہ ہو سکا۔ اس خلا کو بالآخر انگریزوں نے پلاسی و بکسر کی فتوحات کے بعد پر کر لیا۔