بکسر کی شکست کے بعد مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی (مالیہ وصول کرنے کا اختیار) کمپنی کو دے دی، جو اس کی مالی و سیاسی طاقت کی بنیاد بنی۔
بکسر کی فتح کے بعد رابرٹ کلائیو 1765ء میں دوبارہ ہندوستان آیا اور اس نے مغل بادشاہ شاہ عالم دوم اور اودھ کے نواب شجاع الدولہ کے ساتھ معاہدے کیے۔ الہ آباد میں طے پانے والے معاہدوں میں شجاع الدولہ نے کمپنی کو جنگی تاوان ادا کرنے اور الہ آباد و کڑہ کے علاقے شاہ عالم کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا۔
شاہ عالم دوم نے فرمان جاری کیا جس کے تحت بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی، یعنی زمین کا مالیہ وصول کرنے کا اختیار، کمپنی کو مل گیا؛ اس کے بدلے کمپنی نے بادشاہ کو سالانہ چھبیس لاکھ روپے خراج دینے کا وعدہ کیا۔
اس فرمان سے ایک تجارتی کمپنی عملاً ایک وسیع و زرخیز خطے کی مالیاتی حاکم بن گئی، جس سے اس کی فوج کے اخراجات پورے ہوتے اور آگے مزید فتوحات کی راہ ہموار ہوتی گئی۔ بنگال کی دولت کا بڑا حصہ انگلستان منتقل ہونے لگا، اور 1770ء کے قحطِ بنگال کے دوران لاکھوں انسان ہلاک ہوئے۔