مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا فتویٰ — ہندوستان دارالحرب

1803ء (تقریباً)

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1803ء (تقریباً)
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

انگریزوں کے غلبے کے بعد شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فتویٰ دیا کہ یہاں کفار کا حکم نافذ ہونے کے باعث ہندوستان 'دارالحرب' ہے۔ یہ فتویٰ انگریز مخالف تحریکوں کی فکری بنیاد بنا۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فرزند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اپنے زمانے میں ہندوستان کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ جب 1803ء میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم برائے نام رہ گئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ ایسی سرزمین کی شرعی حیثیت کیا ہے جہاں کے قانون اور عملی اقتدار پر غیر مسلم قابض ہو۔

شاہ صاحب نے فتویٰ دیا کہ یہاں اقتدار غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہے اور مسلمانوں کے احکام کا نفاذ ممکن نہیں، اس لیے ہندوستان 'دارالحرب' ہے۔ فقہی اصطلاح میں اس کا مطلب مسلمانوں کے لیے اپنی آزادی اور شرعی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی اہمیت واضح کرنا تھا۔

اس فتوے نے علما میں انگریز حکمرانی کے خلاف فکری موقف واضح کیا، اور شاہ صاحب کے شاگردوں اور خاندان سے تعلق رکھنے والی شخصیات، جیسے سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ، کی تحریک اور بعد کی دیوبندی روایت پر بھی اثر ڈالا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیایسٹ انڈیا کمپنی

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں