سید احمد ٹونک کے نواب امیر خان کے لشکر میں شامل رہے، جہاں عسکری تجربہ حاصل کیا؛ امیر خان کے کمپنی سے معاہدے کے بعد وہ الگ ہو گئے۔
جب سید احمد 1810ء کے قریب ٹونک کے نواب امیر خان کی فوج میں شامل ہوئے تو وہ ایک جری اور تجربہ کار پٹھان سردار تھے جو مرہٹوں کے خلاف اور مختلف ریاستوں کے لیے لڑتے تھے۔ سید احمد نے وہاں سپاہیوں کے ساتھ رہ کر عسکری نظم، جنگی حالات اور فوجی زندگی کا تجربہ حاصل کیا، اور ساتھ ہی سپاہیوں کی اخلاقی و دینی اصلاح کی کوشش بھی جاری رکھی۔
1817ء–1818ء میں امیر خان نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر لیا اور اپنی فوج تحلیل کر کے ٹونک کی ریاست کا نواب بننا قبول کیا۔ سید احمد نے اس معاہدے پر اختلاف کیا اور فرمایا کہ ایسی ذلت کا ساتھ دینا میرے لیے جائز نہیں، پھر امیر خان کا ساتھ چھوڑ کر دہلی لوٹ آئے۔
اس تجربے نے انہیں یقین دلایا کہ غیر ملکی طاقت کے خلاف مزاحمت اور شریعت کے نفاذ کے لیے ایک نظم و ضبط پر مبنی جماعت ضروری ہے، جو اپنی مالی اور عسکری قوت کے لیے کسی راجا یا نواب کی محتاج نہ ہو۔