ایسٹ انڈیا کمپنی نے نواب شجاع الدولہ، نواب میر قاسم اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم کی متحدہ فوج کو شکست دی، جس کے بعد بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کمپنی کے ہاتھ آ گئی۔
پلاسی کے بعد کمپنی نے میر جعفر کے بعد میر قاسم کو بنگال کا نواب بنایا، مگر میر قاسم نے کمپنی کی ذاتی تجارت اور محصولات کے غلط استعمال کے خلاف اقدامات کیے اور خود مختار حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی سے ٹکراؤ کے بعد وہ اودھ کے نواب شجاع الدولہ اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم کے پاس پناہ گزین ہوا اور تینوں نے مل کر کمپنی کے خلاف اتحاد کیا۔
22 اکتوبر 1764ء کو بکسر (بہار) کے میدان میں کمپنی کی نسبتاً چھوٹی مگر منظم فوج نے، جس کی قیادت ہیکٹر منرو کر رہا تھا، اتحادی فوج کو شکست دی۔ اتحادیوں کے مابین رابطے اور قیادت کی کمزوریاں شکست کا بڑا سبب بنیں۔
اس فتح کے بعد کمپنی کی حیثیت واضح طور پر بدل گئی؛ شاہ عالم دوم نے 1765ء میں بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کمپنی کے سپرد کر دی۔ پلاسی نے کمپنی کو سیاسی رسوخ دیا اور بکسر نے اسے قانونی و مالی اختیار بھی دے دیا۔