مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · ملوکیت و مسلم حکمرانی (661ء – 1924ء)

سر تھامس رو کا دربارِ جہانگیری میں مشن

1615ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1615ء
دورملوکیت و مسلم حکمرانی

برطانوی سفیر سر تھامس رو 1615ء میں مغل دربار پہنچا اور کئی برس کی گفت و شنید کے بعد کمپنی کے لیے تجارتی سہولتیں حاصل کیں۔

ہاکنز کی ناکامی کے بعد انگلستان کے بادشاہ نے 1615ء میں سر تھامس رو کو باقاعدہ سفیر کی حیثیت سے مغل دربار میں بھیجا۔ رو نے کئی برس دربار میں گزارے، ادب و آداب سیکھے اور جہانگیر، شہزادہ خرم (بعد کے شاہ جہاں) اور دیگر امرا کے ساتھ گفت و شنید کی۔ جہانگیر کی عادات کے بارے میں رو کی ڈائری تاریخ کا اہم ماخذ ہے۔

پرتگالیوں کے مقابلے میں انگریزوں کی سمندری قوت (خصوصاً سورت کے قریب سوالی کی بحری جھڑپ میں کامیابی) کے باعث مغل دربار انگریزوں کو ایک ممکنہ حلیف سمجھنے لگا۔ رو نے مغل حکمرانوں سے کمپنی کو تجارت اور فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت کے فرامین حاصل کیے، اگرچہ باقاعدہ مکمل معاہدہ نہ ہو سکا۔

ان تجارتی رعایتوں نے کمپنی کو مغل سلطنت کے زیرِ سایہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا، اور اگلی دہائیوں میں ہندوستان کے ساحلوں پر اس کے مراکز پھیلتے گئے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیایسٹ انڈیا کمپنی

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں