مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · ملوکیت و مسلم حکمرانی (661ء – 1924ء)

فرخ سیر کا فرمان — بنگال میں کمپنی کو محصول سے استثنا

1717ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1717ء
دورملوکیت و مسلم حکمرانی

مغل بادشاہ فرخ سیر نے کمپنی کو بنگال میں ٹیکس سے چھوٹ کے ساتھ تجارت کی اجازت دی، جس سے کمپنی کو مقامی تاجروں پر نمایاں برتری ملی۔

1700ء کی دہائی کے آغاز میں مغل حکومت مالی اور سیاسی مشکلات کا شکار تھی، اور کمپنی نے بنگال، مدراس اور بمبئی کے علاقوں میں اپنے قدم مضبوط کر لیے تھے۔ 1715ء میں کمپنی نے جان سرمن کی قیادت میں ایک سفارتی وفد دہلی بھیجا، جس کے ہمراہ ایک سکاٹش سرجن ولیم ہیملٹن بھی تھا؛ روایت ہے کہ اس نے مغل بادشاہ فرخ سیر کا علاج کیا اور اسی وجہ سے وفد کے لیے مراعات ملیں۔

1717ء میں بادشاہ نے کمپنی کو فرمان جاری کیا جس کے تحت بنگال میں کمپنی کے مال کو محصول کے بغیر لے جانے کی اجازت ملی، کلکتہ کے گرد کچھ مزید علاقوں کی خریداری کی اجازت ملی اور سورت میں محصول کی ایک مقررہ رقم طے کر دی گئی۔

یہ فرمان کمپنی کو مقامی تاجروں پر بڑی برتری دیتا تھا، اور بنگال کے نوابوں نے بعد میں اس کے 'ذاتی تجارت' میں غلط استعمال پر اعتراض کیا۔ یہی تنازعات آگے چل کر نواب سراج الدولہ اور کمپنی کے ٹکراؤ کی ایک وجہ بنے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیایسٹ انڈیا کمپنی

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں