مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ عبادات

روزہ

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ عبادات

طہارت سے حج تک — ہر عبادت کا بنیادی طریقہ، قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے ساتھ۔

یہ عبادت کا اصلی مفہوم ہے اور اسلام کا اصل مقصد مسلمان کو ایسا ہی عبادت گزار بندہ بنانا ہے۔ اس غرض کے لیے اسلام میں چند ایسی عبادتیں فرض کی گئی ہیں جو انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتی ہیں۔ گویا یوں سمجھو کہ یہ خاص عبادتیں اس بڑی عبادت کے لیے ٹریننگ کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو شخص یہ ٹرینگ جتنی اچھی طرح لے گا وہ اس بڑی اور اصلی عبادت کو اتنی ہی اچھی طرح ادا کرسکے گا۔ اس لیے ان خاص عبادتوں کو فرض عین قرار دیا گیا ہے اور انھیں ارکان دین یعنی دین کے ستون" کہا گیا ہے۔ جس طرح ایک عمارت چند ستونوں پر قائم ہوتی ہے، اسی طرح اسلامی زندگی کی عمارت بھی ان ستونوں پر قائم ہے۔ ان کو توڑ دو گےتو اسلام کی عمارت کو گرا دو گے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: عبادت کا مفہوممکمل باب پڑھیں

روزہ

2 طریقے1 آیات3 احادیث2 سیرت

طریقہ — مرحلہ وار

قرآنِ مجید

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرؤوں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

احادیث

صحیح بخاری 1904

جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری 38

… سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے۔

صحیح بخاری 1903

… نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔

سیرتِ نبویؐ

رمضان میں آپ ﷺ کی سخاوت

آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے، اور رمضان میں جب جبریلؑ ہر رات آ کر قرآن کا دور کرتے تو آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتی۔

سفر میں روزہ — فتحِ مکہ کا سفر

فتحِ مکہ کے لیے آپ ﷺ رمضان میں روزے کی حالت میں نکلے، اور کدید کے مقام پر پہنچ کر روزہ چھوڑ دیا، تو لوگوں نے بھی چھوڑ دیا۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

غور کرو، یہ کیا چیز ہے؟ اس کی تہہ میں خدا کا خوف ہے۔ اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین ہے۔ آخرت کی زندگی اور خدا کی عدالت پر ایمان ہے۔ قرآن اور رسول کی سخت اطاعت ہے۔ فرض کا زبر دست احساس ہے۔ صبر اور مصائب کے مقابلے کی مشق ہے۔ خدا کی خوشنودی کے مقابلے میں خواہشات نفس کو روکنے اور دبانے کی طاقت ہے۔ ہر سال رمضان کا مہینا آتا ہے تا کہ پورے تیس دن تک یہ روزے تمھاری تربیت کریں اور تمھارے اندر یہ تمام اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ تمھیں پورے اور پکے مسلمان بنو، اور یہ اوصاف تمھیں اس عبادت کے قابل بنا ئیں جو ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ہر وقت بجالانی چاہیے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: روزہمکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔