دعوت و تبلیغ
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ اقامتِ دین
اللہ تعالیٰ نے نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور نبی ﷺ کو ایک ہی حکم دیا: دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو (الشوریٰ ۴۲: ۱۳)۔ یہی ذمہ داری امت کے سپرد ہے — خیر کی دعوت، نیکی کا حکم، برائی سے روکنا اور لوگوں پر حق کی گواہی۔
یہ واضح کر دینے کے بعد کہ خدا کے دین اور اس کے رسولؐ اور اس کی کتاب کی دعوت تمام انسانوں کی طرف عام ہے اور وہ سب اس کے یکساں مخاطب ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بھی بالکل واضح فرما دیا ہے کہ اس کے دین کو صرف اپنی ذات کی حد تک مان لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ جو لوگ اس کے حق اور انسان کے لیے واحد صحیح راہ عمل ہونے کو تسلیم کریں‘ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے اپنے علاوہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں بھی جاری اور برپا کرنے کی انتہائی جدوجہد کریں‘ اور اگر ضرورت پیش آئے تو اس راہ میں حائل ہونے والی قوتوں سے جہاد بھی کریں۔
دعوت و تبلیغ
اس سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے؛ نبی ﷺ کا راستہ بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلانا تھا — حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ۔
3 آیات3 احادیث3 سیرت
قرآنِ مجید
احادیث
سفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی ( سفیان نے کہا : ) مجھے امید تھی کہ وہ ( مجھے خود روایت سنا کر ) ایک راوی کم کر دے گا ( چنانچہ سہیل نےکہا ) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد سے سنی ، وہ شام میں ان کا دوست تھا ۔ ( محمد بن عباد نے کہا ) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سےروایت سنائی کہ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔ ‘ ‘ ہم ( صحابہ رضی اللہ عنہ ) نے پوچھا : کس کی ( خیر خواہی؟ ) آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانون کی ( خیرخواہی ۔ ) ‘ ‘
… نے خبر دی کہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اسے عزیز رکھتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ وہ رات سب کی اس فکر میں گزر گئی کہ دیکھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عَلم کسے عطا فرماتے ہیں۔ صبح ہوئی تو سب خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور اس امید کے ساتھ کہ عَلم انہیں کو ملے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ تو آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے ان کی آنکھیں اتنی اچھی ہو گئیں جیسے پہلے کوئی بیماری ہی نہیں تھی۔ علی رضی اللہ عنہ نے عَلم سنبھال کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہمارے ہی جیسے نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی چلتے رہو ‘ ان کے میدان میں اتر کر پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ اللہ کا ان پر کیا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔
سیرتِ نبویؐ
کوہِ صفا سے کھلی دعوت
آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے پوچھا: اگر میں کہوں کہ دشمن صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا مانو گے؟ سب نے کہا: ہاں۔ فرمایا: تو میں تمہیں سخت عذاب سے پہلے خبردار کرنے والا ہوں۔ ابولہب نے سخت جواب دیا، جس پر سورۂ لہب نازل ہوئی۔
اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت
جب آیت «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے قریش اور بنی عبد مناف کو پکار کر فرمایا کہ اللہ کی اطاعت سے اپنی جانیں بچاؤ، اللہ کے سامنے میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا — یہاں تک کہ اپنی پھوپھی صفیہؓ اور بیٹی فاطمہؓ سے بھی یہی فرمایا۔
عقبہ کا دن — دعوت رد ہونے پر بھی بددعا نہیں
آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے سخت دن وہ تھا جب میں نے کنانہ بن عبد یالیل کے سامنے اپنی دعوت پیش کی اور اس نے رد کر دی۔ پہاڑوں کا فرشتہ آیا کہ حکم ہو تو انہیں دو پہاڑوں کے بیچ پیس دے؛ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے۔
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
قولی شہادت کی صورت یہ ہے کہ ہم زبان اور قلم سے دُنیا پر اُس حق کو واضح کریں جو انبیاکے ذریعے ہمیں پہنچا ہے۔ سمجھانے اور دل نشیں کرنے کے جتنے طریقے ممکن ہیں، اُن سب سے کام لے کر ،تبلیغ و دعوت اور نشر و اشاعت کے جتنے ذرائع ممکن ہیں اُن سب کو استعمال کرکے ، علم و فنون نے جس قدر مواد فراہم کیا ہے وہ سب اپنے ہاتھ میں لے کر، ہم دنیا کو اُس دین کی تعلیم سے روشناس کریں جو خدا نے انسان کے لیے مقرر کیا ہے۔ فکر و اعتقاد میں ، اخلاق و سیرت میں، تمدن و معاشرت میں ، کسبِ معاش اور لین دین میں ، قانون اور نظمِ عدالت میں ، سیاست اور تدبیرِ مملکت میں اور بین الانسانی معاملات کے تمام دُوسرے پہلوؤں میں ، اُس دین نے انسان کی راہ نُمائی کے لیے جو کچھ پیش کیا ہے، اُسے ہم خوب کھول کھول کر بیان کریں۔ دلائل اور شواہد سے اُس کا حق ہونا ثابت کر دیں، اور جو کچھ اُس کے خلاف ہے، اُس پر معقول تنقید کرکے بتائیں کہ اُس میں کیا خرابی ہے ۔
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
- 📚 دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار
- 📚 دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات
- 📚 دعوت دین کی ذمہ داری
- 📚 الجہاد فی الاسلام
- 📚 رسائل ومسائل – جلد سوم
اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔