عدل و انصاف
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ سیاست
خلافت، شوریٰ، عدل اور حکمرانی کے اسلامی اصول۔
اِسلام کے سیاسی نظام کی بنیاد تین اُصولوں پر رکھی گئی ہے۔ توحید، رسالت اور خلافت۔ اِن اُصولوں کو اچھی طرح سمجھے بغیر اسلامی سیاست کے تفصیلی نظام کو سمجھنا مشکل ہے۔
عدل و انصاف
حکومت اور عدالت کا بنیادی فریضہ عدل ہے — اپنے اور پرائے، دوست اور دشمن، سب کے ساتھ یکساں۔
3 آیات2 احادیث1 سیرت
قرآنِ مجید
احادیث
… سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور ( بے ساختہ ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
… سے حدیث بیان کی ، ابن نمیر اور ابوبکر نے کہا : انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، زہیر کی حدیث میں ہے ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ) کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں ، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں
سیرتِ نبویؐ
فیصلہ سنی ہوئی بات پر
آپ ﷺ نے فرمایا: میں ایک انسان ہوں، تم اپنے مقدمے میرے پاس لاتے ہو؛ ہو سکتا ہے کوئی دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو اور میں سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں — تو جسے میں اس کے بھائی کا حق دلا دوں وہ اسے نہ لے، کیونکہ وہ آگ کا ٹکڑا ہے۔
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
حقیقت یہ ہے کہ عدل ہی اسلام کا مقصود ہے اور اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ عدل قائم کرے۔
عدل، اسلام سے الگ کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ اسلام خود عدل ہے۔ اس کا قائم ہونا اور عدل کا قائم ہو جانا ایک ہی چیز ہے۔
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔