آخرت
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ عقائد
ہر انسان کی زندگی اسی بنیاد پر گزرتی ہے کہ وہ کن باتوں کو اپنے عقائد پر استوار کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے ارد گرد کے افراد و کائنات کے بارے میں کیا خیال کرتا ہے؟ ان کا کیا رشتہ ہے؟ اس کی کیا ذمہ داری ہے؟ اس کے کیا حقوق ہیں۔ وغیرہ اسی بنیاد پر وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔
اس غرض کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا علم… قیاس وگمان نہیں بلکہ ’’علم‘‘… ہو کہ اس کی اور کائنات کی حقیقت کیا ہے اور کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے۔ پھر وہ اس بات کے جاننے کا۔۔۔سمجھ بیٹھنے کا نہیں بلکہ جاننے کا۔۔۔ حاجت مند ہے کہ آیا زندگی بس یہی دُنیا کی زندگی ہے یا یہ پوری زندگی کا ایک ابتدائی حصہ ہے۔ آیا سفر بس پیدائش سے لے کر موت تک کی مسافت کا ہے یا یہ پورے سفر میں سے محض ایک مرحلہ ہے۔
آخرت
جس طرح یہ دنیا وجود میں آئی ہے جس کی ہر چیز فانی ہے خود بھی ایک روز ختم ہوجائے گی۔ اور وہی خالق کائنات جس نے اس دنیا کو بنایا تھا وہ ایک دوسری زندگی اور کائنات تخلیق کرے گا جہاں دوام ہوگا۔ جہاں ہر ایک کو اس کے اس دنیا میں کئے گئے عمل کا حساب دینا ہوگا۔ جہاں کامیاب ہونے کی صورت میں اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے ساتھ عیش و آرام، سکون ملے گا وہیں اللہ کو نا ماننے، رسولوں کے بات پر کان نہ دھرنے پر ناکام و نامراد ہونے کی صورت میں سخت سزا بھی دی جائے گی۔
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
اب ایک شخص تو وہ ہے جس کی نظر صرف اسی دنیا کے فائدے اور نقصان پرہے۔ وہ کسی ایسے نیک کام پر ہرگز آمادہ نہ ہو گا جس سے کوئی فائدہ اس دنیا میں حاصل ہونے کی امید نہ ہو۔ اور کسی ایسے برے کام سے پرہیز نہ کرے گا جس سےاس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔ ایک دوسرا شخص ہے جس کی نظر افعال کے آخری نتائج پر ہے۔ وہ دنیا کے فائدے اور نقصان کو محض عارضی چیز سمجھے گا۔ وہ آخرت کے دائمی فائدے یا نقصان کا لحاظ کر کے نیکی کو اختیار کرے گا اور بدی کوچھوڑ دے گا، خواہ اس دنیا میں نیکی سے کتنا ہی بڑا نقصان اور بدی سے کتنا ہی بڑافائدہ ہوتا ہو۔
بنیادی مواد جلد شامل کیا جائے گا۔
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔