اولاد کی تربیت
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ تعلیم و تربیت
علم کی فضیلت، اولاد کی تربیت اور تعلیم کا نبوی طریقہ — قرآن و حدیث کی روشنی میں۔
ہم اس کے بالکل قائل نہیں ہیں کہ ہماری ایک تعلیم دنیوی ہو اور ایک تعلیم دینی۔ اس کے برعکس ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ ہماری پوری کی پوری تعلیم بیک وقت دینی بھی ہو اوردنیوی بھی۔ دنیوی اس لحاظ سے کہ ہم دنیا کو سمجھیں اور دنیا کے سارے کام چلانے کے قابل ہوں اور دینی اس لحاظ سے کہ ہم دنیا کو دین ہی کے نقطۂ نظر سے سمجھیں اور دین کی ہدایت کے مطابق اس کا سارا کام چلائیں۔ اسلام وہ مذہب نہیں ہے جو آپ سے یہ کہتا ہو کہ دنیا کے کام آپ جس طرح چاہیں چلاتے رہیں اور بس اس کے ساتھ چند عقائد اور عبادات کا ضمیمہ لگائے رہیں۔ اسلام زندگی کی محض ضمیمہ بننے پر کبھی قانع تھا اور نہ آج ہے۔ وہ تو پوری زندگی میں آپ کا رہنما اور پوری زندگی کے لیے آپ کا طریقِ عمل بننا چاہتا ہے۔
اولاد کی تربیت
اپنے گھر والوں کو آگ سے بچانا ہر مومن کی ذمہ داری ہے؛ حضرت لقمانؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں تربیت کا قرآنی نمونہ ہیں۔
3 آیات2 احادیث2 سیرت
قرآنِ مجید
احادیث
… نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں۔ کیا تم نے ( پیدائشی طور پر ) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر ( یعنی نماز نہ پڑھنے پر ) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو ۔
سیرتِ نبویؐ
کھانے کے آداب کی تعلیم
حضرت عمر بن ابی سلمہؓ بچپن میں آپ ﷺ کی پرورش میں تھے اور کھاتے وقت ان کا ہاتھ برتن میں ہر طرف گھومتا تھا؛ آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹے! بسم اللہ پڑھو، داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں ہمیشہ اسی طرح کھاتا رہا۔
بچوں سے شفقت
آپ ﷺ نے حضرت حسن بن علیؓ کو بوسہ دیا۔ اقرع بن حابسؓ نے کہا کہ میرے دس بیٹے ہیں، میں نے کسی کو بوسہ نہیں دیا؛ آپ ﷺ نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
تیسری بنیادی چیز جو نئے نظام تعلیم میں ملحوظ رہنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اس میں تشکیلِ سیرت کو کتابی علم سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ محض کتابیں پڑھانے اور محض علوم وفنون سکھا دینے سے ہمارا کام نہیں چل سکتا۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ ہمارے ایک ایک نوجوان کے اندر اسلامی کریکٹر پیدا ہو، اسلامی طرزِ فکر اور اسلامی ذہنیت پیدا ہو، خواہ وہ سائنٹسٹ ہو، خواہ وہ علوم عمران کا ماہر ہو، خواہ وہ ہماری سول سروس کے لیے تیار ہو رہا ہو، جو بھی ہو اس کے اندر اسلامی ذہنیّت اور اسلامی کریکٹر ضرور ہونا چاہیے۔ یہ چیز ہماری تعلیمی پالیسی کے بنیادی مقاصد میں شامل ہونی چاہیے۔ جس آدمی میں اسلامی اخلاق نہیں وہ چاہے جوکچھ بھی ہو، بہرحال ہمارے کسی کام کا نہیں ہے۔
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔