خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
وہابی اور وہابیت
سوال: فرقہ ٔوہابیہ کا بانی کون تھا؟اس کے مخصوص عقائد کیا تھے؟ہندستان میں اس کی تعلیمات کس طرح شائع ہوئیں؟کیا علماے اسلام نے اس کی تردید نہیں کی؟اگر کی ہے تو کس طریقے پر؟ آیا اس فرقے نے اشاعتِ اسلام میں حصہ لیا ہے یا مخالفتِ اسلام میں؟
جواب: وہابی دراصل کسی فرقے کا نام نہیں ہے۔محض طنز اور طعن کے طور پر ان لوگوں کے لیے ایک نام رکھ دیا گیا ہے، جو یا تو اہلِ حدیث ہیں یا محمد بن عبدالوہاب کے پیرو ہیں۔ اہلِ حدیث کا مسلک تو قدیم ہے۔ ائمۂ اربعہ کے زمانے سے چلا آتا ہے۔ اور یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو کسی امام کی تقلید اختیا رکرنے کے بجائے خود حدیث وقرآن سے احکام کی تحقیق کرتے ہیں۔رہے محمد بن عبدالوہاب کے پیرو،تو وہ دراصل حنبلی طریقے کے لوگ ہیں۔ان کی فقہ اور ان کے عقائد وہی ہیں جو امام احمد بن حنبلؒ کے تھے۔ہندستان میں یہ مؤخر الذکر گروہ غالباًکہیں موجود نہیں ہے۔جن لوگوں کو یہاں وہابی کہا جاتا ہے وہ دراصل پہلے گروہ کے لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے اوّل اوّل نہایت اچھا کام کیا اور اب بھی ان میں اچھے افراد پائے جاتے ہیں۔مگر ان میں بہت سے جاہل اور جھگڑالو آدمی بھی شامل ہوگئے ہیں جو خواہ مخواہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر بحث و مناظرے کا بازار گرم کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے ہی جاہل خود حنفی کہلانے والے گروہ میں بھی بکثرت موجود ہیں۔یہ ساری مناظرہ ومباحثہ اور فرقہ بازی کی گرمیِ بازار انھی دونوں فریقوں کی برکت ہے۔
(ترجمان القرآن ، جولائی ،اکتوبر 1944ء)