خطبات
اشاعت: 1940ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "خطبات" ایک ایسی تصنیف ہے جو عام مسلمانوں—خاص طور پر دیہاتی پنجابی مخاطبین—کو دینِ حق کی روح سمجھانے کے لیے تحریر کی گئی۔ یہ خطباتِ جمعہ 1938ء میں دارُ الاسلام (نزد پٹھان کوٹ) میں قیام کے دوران مرتب کیے گئے، جہاں مولانا نے مقامی لوگوں کو سادہ اور عام فہم انداز میں دین کی بنیادیات سمجھانے کی کوشش کی۔ کتاب کا مرکزی مقصد صرف ظاہری عبادات یا رسمی اسلام تک محدود رہنے والے مسلمانوں کو حقیقی ایمان کی طرف بلانا ہے، جس میں معرفتِ الٰہی، قرآن کی ہدایت کی سمجھ، اور عملی زندگی میں اللہ کی فرماں برداری شامل ہے۔
کتاب کا آغاز دو دیباچوں سے ہوتا ہے: پہلا طبع اول (1940ء) کے موقع پر لکھا گیا، جس میں مولانا نے کتاب کے مقصد، مخاطبین کی نوعیت، اور زبان و انداز کی سادگی کی وضاحت کی ہے۔ دوسرا دیباچہ طبع ہشتم (1951ء کے بعد) میں شامل ہے، جس میں انہوں نے علماء کرام کی جانب سے کتاب پر لگائے گئے الزامات—خاص طور پر زکوٰۃ اور حج کے بارے میں بعض جملوں کو تنقید کا نشانہ بنانا—کا جواب دیا ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ ان کا مقصد "قانونی اسلام" (فقہی اور معاشرتی حیثیت) سے قانع ہونے والوں کو "حقیقی اسلام" کی طرف لانا ہے، جس میں اخلاص، اطاعت، اور فدائیت کی روح ہو۔
اس کے بعد کتاب سات ابواب میں ارکانِ اسلام کو ترتیب سے بیان کرتی ہے۔ باب اول "ایمان" کلمہ طیبہ کے معنی اور مسلمان و کافر کے حقیقی فرق کو واضح کرتا ہے؛ باب دوم "اسلام" خدا کی اطاعت اور دین و شریعت کے تعلق کو بیان کرتا ہے؛ باب سوم "نماز" عبادت کی روح، نماز باجماعت کی اہمیت اور نمازیں بے اثر ہو جانے کے اسباب پر گفتگو کرتا ہے؛ باب چہارم "روزہ" اور باب پنجم "زکوٰۃ" ان دونوں فرائض کے اصل مقصد اور اجتماعی زندگی میں ان کے مقام کو واضح کرتے ہیں؛ باب ششم "حج" اس کی تاریخ، فوائد اور عالمگیر اجتماع کی حیثیت کو اجاگر کرتا ہے؛ اور باب ہفتم "جہاد" اسلام کے حقیقی مقصود پر روشنی ڈال کر کتاب کے مرکزی موضوعات کو مکمل کرتا ہے۔ آخر میں دو ضمیمے شامل ہیں جن میں مولانا کے اصل خطبہ جمعہ کے تراجم (خطبۂ اولیٰ و ثانیہ) پیش کیے گئے ہیں تاکہ قارئین ان بنیادی مباحث کا عملی اطلاق حقیقی خطبات کی صورت میں دیکھ سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دیباچہ طبع اول
۱۳۵۷ھ (۱۹۳۸ء) میں جب میں پہلی مرتبہ پنجاب آیا اوردارُ الاسلام (نزد پٹھان کوٹ، مشرقی پنجاب) میں قیام پذیر ہوا تو میں نے وہاں کی مسجد میں جمعہ کی نماز کا سلسلہ شروع کیا اور گرد ونواح کے دیہاتی مسلمانوں کو جمع کرکے انھیں دین اسلام سمجھانے کی کوشش کی۔ یہ مجموعہ انھی خطباتِ جمعہ پر مشتمل ہے جو میں نے اس زمانے میں تیار کیے تھے۔ ان خطبات میں میرے مخاطب گائوں کے لوگ تھے اور وہ بھی پنجاب کے، جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، اس لیے مجھے زبان اور اندازِ بیان دونوں نہایت سہل اور عام فہم اختیار کرنے پڑے۔ اس طرح ایک ایسا مجموعہ تیار ہو گیا ہے جوعوام کو دین کی تعلیم دینے کے لیے ان شاء اللہ بہت مفید ثابت ہو گا۔
اس سے پہلے میں اپنے رسالۂ دینیات میں عقائد اسلام کی کافی تشریح کر چکا ہوں اور اسلام کے نظامِ شریعت کو بھی میں نے اختصار کے ساتھ وہاں بیان کر دیا ہے۔ اب اس مجموعے میں دو چیزیں اور ضروری شرح وبسط کے ساتھ آ گئی ہیں۔ ایک: رُوحِ دین، دوسرے: عبادت۔
مجھے امید ہے کہ جو لوگ رسالۂ دینیات کے ساتھ اِن خطبات کو ملا کر پڑھیں گے ان کے لیے دین کی راہ اچھی طرح روشن ہو جائے گی۔ << وَبِاللّٰہِ التَّوُفِیْق۔ >>
جو اصحاب اِن خطبات کو جمعہ میں سنانا چاہیں وہ ہر خطبے کی ابتدا میں خطبۂ مسنونہ پڑھیں۔ خطبۂ ثانیہ کے انتخاب میں وہ آزاد ہیں، مگر وہ لازماً عربی میں ہونا چاہیے۔
ابو الاعلیٰ
لاہور
۱۵؍ رمضان ۱۳۵۹ھ
مطابق اکتوبر ۱۹۴۰ء