رسالت
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ عقائد
ہر انسان کی زندگی اسی بنیاد پر گزرتی ہے کہ وہ کن باتوں کو اپنے عقائد پر استوار کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے ارد گرد کے افراد و کائنات کے بارے میں کیا خیال کرتا ہے؟ ان کا کیا رشتہ ہے؟ اس کی کیا ذمہ داری ہے؟ اس کے کیا حقوق ہیں۔ وغیرہ اسی بنیاد پر وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔
اس غرض کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا علم… قیاس وگمان نہیں بلکہ ’’علم‘‘… ہو کہ اس کی اور کائنات کی حقیقت کیا ہے اور کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے۔ پھر وہ اس بات کے جاننے کا۔۔۔سمجھ بیٹھنے کا نہیں بلکہ جاننے کا۔۔۔ حاجت مند ہے کہ آیا زندگی بس یہی دُنیا کی زندگی ہے یا یہ پوری زندگی کا ایک ابتدائی حصہ ہے۔ آیا سفر بس پیدائش سے لے کر موت تک کی مسافت کا ہے یا یہ پورے سفر میں سے محض ایک مرحلہ ہے۔
رسالت
اللہ تعالی نے اپنے تمام بندوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے کچھ بندوں کو بزرگی عطاء کی اور ان کے ذمہ دیگر تمام انسانوں تک اس کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری لگائی۔ یہ برگزیدہ انسان پوری تاریخ انسانیت میں وقتا فوقتا مبعوث ہوتے رہے تاکہ انسانوں کو اصل حقیقت کے بارے میں آگاہ کرتے رہے۔ ان کا سلسلہ پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام سے آخری پیغامبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا۔ اب رہتی دنیا تک انسان کی کامیابی کا واحد راستہ وہی ہے جو آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے انسانوں کو پہنچا ہے۔
قرآنِ مجید
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
جب یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے تو اس کی بات ماننا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے طریقے کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ تم ایک شخص کو پیغمبر بھی تسلیم کرو اور پھر اس کی بات بھی نہ مانو۔ اس لیے کہ پیغمبر تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے مان لیا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے خدا کی طرف سے کہہ رہا ہے اور جو کچھ کر رہا ہے خدا کی مرضی کے مطابق کر رہا ہے۔ اب تم جو کچھ اس کے خلاف کہو گے یا کرو گے وہ خدا کے خلاف ہوگا۔ اور جو بات خدا کے خلاف ہو وہ کبھی حق نہیں ہو سکتی۔ لہذا کسی کو پیغمبر تسلیم کرنے سے یہ بات خود بخود لازم ہو جاتی ہے کہ اس کی بات کو بے چون و چرا مان لیا جائے اور اس کے حکم کے آگے سر جھکا دیاجائے ، خواہ اس کی حکمت اور اس کا فائدہ تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ جو بات پیغمبر کی طرف سے ہے، اس کا پیغمبر کی طرف سے ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سچی ہے اور تمام مصلحتیں اور حکمتیں اس میں موجود ہیں۔
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
- 📚 توحید و رسالت اور زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت
- 📚 ختم نبوت
- 📚 اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات
- 📚 تفہیمات – جلد اول
- 📚 دینیات
- 📚 رسائل ومسائل – جلد دوم
اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔