نظامات · نظامِ سیاست
حاکمیتِ الٰہی
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ سیاست
خلافت، شوریٰ، عدل اور حکمرانی کے اسلامی اصول۔
اِسلام کے سیاسی نظام کی بنیاد تین اُصولوں پر رکھی گئی ہے۔ توحید، رسالت اور خلافت۔ اِن اُصولوں کو اچھی طرح سمجھے بغیر اسلامی سیاست کے تفصیلی نظام کو سمجھنا مشکل ہے۔
حاکمیتِ الٰہی
اسلامی نظامِ سیاست کی بنیاد یہ ہے کہ حکم اور اقتدارِ اعلیٰ اللہ کا ہے، اور انسانوں کے فیصلے اس کی نازل کردہ ہدایت کے تابع ہیں۔
قرآنِ مجید
مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباوٴ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سَنَد نازل نہیں کی ۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تُو جسے چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے، چھین لے۔ جسے چاہے، عزّ ت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کردے ۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ
ہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے)کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !)تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
پس اِسلامی سٹیٹ کی ابتدائی خصوصیات جو قرآن کی مذکورہ بالا تصریحات سے نکلتی ہیں، یہ ہیں: ۱۔ کوئی شخص، خاندان، طبقہ یا گروہ بلکہ اسٹیٹ کی ساری آبادی مل کر بھی حاکمیت کی مالک نہیں ہے۔ حاکم اصلی صرف خدا ہے اور باقی سب محض رعیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ۲۔ قانون سازی کے اختیارات بھی خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہیں سارے مسلمان مل کر بھی نہ اپنے لیے کوئی قانون بنا سکتے ہیں اور نہ خدا کے بنائے ہوئے کسی قانون میں ترمیم کر سکتے ہیں [مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو ’’اسلامی ریاست‘‘ باب پنجم، مطبوعہ اسلامک پبلی کیشنز لمٹیڈ لاہور]۔ ۳۔ اِسلامی اسٹیٹ بہرحال اس قانون پر قائم ہو گا جو خدا کی طرف سے اس کے نبی نے دیا ہے اور اس اسٹیٹ کو چلانے والی گورنمنٹ صرف اس حال میں اور اس حیثیت سے اطاعت کی مستحق ہو گی کہ وُہ خدا کے قانون کو نافذ کرنے والی ہو۔
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
- 📚 قانون سازی، شوریٰ اور اجماع
- 📚 اسلام میں قانون سازی کا دائرہ عمل اور اس میں اجتہاد کا مقام
- 📚 مسئلہ خلافت میں امام ابوحنیفہؒ کا مسلک حاکمیت
- 📚 اسلامی دستور کی تدوین
- 📚 اسلامی ریاست
اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔