مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ اقامتِ دین

دین کا مفہوم

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ اقامتِ دین

اللہ تعالیٰ نے نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور نبی ﷺ کو ایک ہی حکم دیا: دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو (الشوریٰ ۴۲: ۱۳)۔ یہی ذمہ داری امت کے سپرد ہے — خیر کی دعوت، نیکی کا حکم، برائی سے روکنا اور لوگوں پر حق کی گواہی۔

یہ واضح کر دینے کے بعد کہ خدا کے دین اور اس کے رسولؐ اور اس کی کتاب کی دعوت تمام انسانوں کی طرف عام ہے اور وہ سب اس کے یکساں مخاطب ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بھی بالکل واضح فرما دیا ہے کہ اس کے دین کو صرف اپنی ذات کی حد تک مان لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ جو لوگ اس کے حق اور انسان کے لیے واحد صحیح راہ عمل ہونے کو تسلیم کریں‘ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے اپنے علاوہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں بھی جاری اور برپا کرنے کی انتہائی جدوجہد کریں‘ اور اگر ضرورت پیش آئے تو اس راہ میں حائل ہونے والی قوتوں سے جہاد بھی کریں۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات»، باب: دین اسلام کو صرف مان لینا کافی نہیں ہے‘ اس کی تبلیغ اور اقامت بھی لازم ہےمکمل باب پڑھیں

دین کا مفہوم

اللہ کے ہاں دین اسلام ہی ہے، اور اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں — انسان اور جن اسی لیے پیدا کیے گئے کہ اللہ کی بندگی کریں۔

4 آیات1 احادیث

قرآنِ مجید

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے  اُن لوگوں  نے اختیار کیے، جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس  طرز عمل  کی کوئی  وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا  کیا اور جو کوئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اس فرماں برداری (اسلام)کے سوا جو شخص  کوئی  اور طریقہ اختیار کرے گا وہ   ہرگز  قبول نہ کیا جا ئے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد گا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ  اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں ۔

احادیث

صحیح بخاری 8

… سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انھی مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہلِ عرب کی بول چال میں مستعمل تھا۔ لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا اور اس سے ایک ایسا نظامِ زندگی مراد لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدارِ اعلیٰ تسلیم کرکے اس کی اطاعت وفرماں برداری قبول کر لے، اس کے حدود وضوابط اور قوانین کے تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرماں برداری پر عزت، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نافرمانی پر ذلت وخواری اور سزا سے ڈرے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں»، باب: دین ایک جامع اصطلاح:مکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔