مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ معیشت

تجارت کے اصول

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ معیشت

حلال کمائی، سود کی ممانعت اور تجارت کے شرعی اصول۔

انسان کی معاشی زندگی کو انصاف اور راستی پر قائم رکھنے کے لیے اِسلام نے چند اُصول اور چند حدود مقرر کر دیے ہیں تا کہ دولت کی پیدائش ،استعمال اور گردش کا سارا نظام انھی خطوط کے اندر چلے جو اس کے لیے کھینچ دیے گئے ہیں۔ دولت کی پیداوار کے طریقے اور اس کی گردش کی صورتیں کیا ہوں؟ اِسلام کو اس سوال سے کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو مختلف زمانوں میں تمدن کے نشوونما کے ساتھ ساتھ بنتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا تعین انسانی حالات و ضروریات کے لحاظ سے خود بخود ہو جاتا ہے اِسلام جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام زمانوں اور حالات میں انسان کے معاشی معاملات جو شکلیں بھی اختیار کریں ان میں یہ اصول مستقل طور پر قائم رہیں اور ان حدود کی لازماً پابندی کی جائے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «اسلام کا نظام حیات»، باب: اِسلام کا اقتصادی نظاممکمل باب پڑھیں

تجارت کے اصول

1 آیات3 احادیث1 سیرت

قرآنِ مجید

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاوٴ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے۔

احادیث

صحیح بخاری 2079

… سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار ( بیع ختم کر دینے کا ) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا ) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔

صحیح مسلم 284

علاء نےاپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے توآپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا ، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا : ’’ غلے کے مالک! یہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس پر بارش پڑ گئی تھی ۔ آپ نے فرمایا : ’’ توتم نے اسے ( بھیگے ہوئے غلے ) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لو گ اسے دیکھ لیتے ؟ جس نے دھوکا کیا ، وہ مجھ سے نہیں ۔ ‘ ‘ ( ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔)

صحیح بخاری 2076

… نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔

سیرتِ نبویؐ

ایک یہودی سے ادھار کا معاملہ

وفات کے وقت آپ ﷺ کی لوہے کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَو کے بدلے رہن رکھی ہوئی تھی۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروؤں کو دولت کمانے کا عام لائسنس نہیں دیتا بلکہ کمائی کے طریقوں میں اجتماعی مفاد کے لحاظ سے جائز اور ناجائز کا امتیاز قائم کرتا ہے۔ یہ امتیاز اس قاعدہ کلیہ پر مبنی ہے کہ دولت حاصل کرنے کے تمام وہ طریقے ناجائز ہیں جن میں ایک شخص کا فائدہ دوسرے شخص یا اشخاص کے نقصان پر مبنی ہو اور ہر وہ طریقہ جائز ہے جس میں فوائد کا مبادلہ متعلقہ اشخاص کے درمیان منصفانہ طور پر ہو۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «سود»، باب: ۱۔اِکتسابِ مال کے ذرائع جائز و ناجائز کی تفریقمکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔