سود
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ معیشت
حلال کمائی، سود کی ممانعت اور تجارت کے شرعی اصول۔
انسان کی معاشی زندگی کو انصاف اور راستی پر قائم رکھنے کے لیے اِسلام نے چند اُصول اور چند حدود مقرر کر دیے ہیں تا کہ دولت کی پیدائش ،استعمال اور گردش کا سارا نظام انھی خطوط کے اندر چلے جو اس کے لیے کھینچ دیے گئے ہیں۔ دولت کی پیداوار کے طریقے اور اس کی گردش کی صورتیں کیا ہوں؟ اِسلام کو اس سوال سے کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو مختلف زمانوں میں تمدن کے نشوونما کے ساتھ ساتھ بنتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا تعین انسانی حالات و ضروریات کے لحاظ سے خود بخود ہو جاتا ہے اِسلام جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام زمانوں اور حالات میں انسان کے معاشی معاملات جو شکلیں بھی اختیار کریں ان میں یہ اصول مستقل طور پر قائم رہیں اور ان حدود کی لازماً پابندی کی جائے۔
سود
1 آیات2 احادیث1 سیرت
قرآنِ مجید
احادیث
نبی ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی۔
… نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں بچتے رہو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔“
سیرتِ نبویؐ
حجۃ الوداع: جاہلیت کا سارا سود کالعدم
حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ زمانۂ جاہلیت کے سارے سود کالعدم ہیں، لوگوں کے لیے صرف ان کا اصل مال ہے — نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے
اب اگر آپ سود کا نفسیاتی تجزیہ کریں گے تو آپ کو بیک نظر معلوم ہو جائے گا کہ روپیہ جمع کرنے کی خواہش سے لے کر سودی کاروبار کے مختلف مرحلوں تک پورا ذہنی عمل خود غرضی، بخل ، تنگ دلی، سنگ دلی اور زر پرستی جیسی صفات کے زیر اثر جاری رہتا ہے اور جتنا جتنا آدمی اس کاروبار میں آگے بڑھتا جاتا ہے، یہی صفات اس کے اندر نشوونما پاتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس زکوٰۃ و صدقات کی ابتدائی نیت سے لے کر اس کے عملی ظہور تک پورا ذہنی عمل فیاضی، ایثار، ہمدردی، فراخ دلی، عالی ظرفی اور خیر اندیشی جیسی صفات کے زیر اثر واقع ہوتا ہے اور اس طریق کار پر مسلسل عمل کرتے رہنے سے یہی صفات انسان کے اندر نشوونما پاتی ہیں۔ کیا کوئی انسان دنیا میں ایسا ہے جس کا دل شہادت نہ دیتا ہو کہ اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلا مجموعہ بدترین اور دوسرا مجموعہ بہترین ہے؟
مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں
لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:
اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔