مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ مقابلہ ادیان

دیگر ادیان سے تقابل

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ مقابلہ ادیان

دیگر ادیان کے ساتھ تقابلی مطالعہ، مشترکہ اقدار اور معروض اعتراضات کے جوابات۔

جزئیات و فروع سے قطع نظر، اُصولی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو انسان اور کائنات کے متعلق چار مابعدالطبیعی نظریے قائم ہو سکتے ہیں اور دُنیا میں جتنے دستورِ زِندگی پائے جاتے ہیں انھوں نے انھی چار میں سے کسی ایک کو اختیار کیا ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: زندگی کے چار نظریےمکمل باب پڑھیں

دیگر ادیان سے تقابل

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

ان میں سے پہلے نظریے کو ہم جاہلیّتِ خالصہ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کا خلاصہ یہ ہے: کائنات کا یہ سارا نظام ایک اِتفاقی ہنگامہ وجود و ظہور ہے جس کے پیچھے کوئی حکمت ، کوئی مصلحت اور کوئی مقصد کار فرما نہیں ہے۔ یوں ہی بن گیا ہے ، یوں ہی چل رہا ہے۔ اور یوں ہی بے نتیجہ ختم ہو جائے گا۔ اس کا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کے ہونے یا نہ ہونے کا انسان کی زِندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: ۱۔ جاہلیّتِ خالصہمکمل باب پڑھیں
دوسرا مابعدالطبیعی نظریہ شرک کے اصول پر مبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام اتفاقی تو نہیں ہے اور نہ بے خداوند ہے ، مگر اس کا ایک خداوند (master) نہیں بلکہ بہت سے خداوند ہیں۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: ۲۔ جاہلیّتِ مشرکانہمکمل باب پڑھیں
تیسرا مابعدالطبیعی نظریہ رہبانیت پر مبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دُنیا اور یہ جسمانی وجود انسان کے لیے ایک دارالعذاب ہے۔ انسان کی روح اس قفسِ عنصری میں دراصل ایک سزا یافتہ قیدی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لذات و خواہشات اور تمام وہ ضروریات جو اس جسمانی تعلق کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوتی ہیں دراصل اس قید خانہ کے طوق و سلاسل ہیں۔ انسان اس دُنیا اور اس کی چیزوں سے جتنا تعلق رکھے گا اتنا ہی گندگی سے آلودہ ہو گا اور اِسی قدر مزید عذاب کا مستحق بن جائے گا۔ نجات کی صورت اس کے سِوا کوئی نہیں کہ اس زِندگی کے بکھیڑوں سے قطع تعلق کیا جائے ، خواہشات کو مٹایا جائے ، لذات سے کنارہ کشی کی جائے ، جسمانی ضروریات اور نفس کے مطالبات کو پورا کرنے سے انکار کیا جائے ، ان تمام محبتوں کو جو دنیوی اشیا اور گوشت و خون کی رشتہ داریوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، دل سے نکال دیا جائے اور اپنے اس دشمن ، یعنی نفس و جسم کو مجاہدات و ریاضات کے ذریعہ سے اتنی تکلیفیں دی جائیں کہ روح پر اس کا تسلط قائم نہ رہ سکے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: ۳۔ جاہلیّتِ راہبانہمکمل باب پڑھیں
چوتھا مابعدالطبیعی نظریہ وہ ہے جسے انبیا علیہم السلام نے پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے: یہ سارا عالم ہست و بودجو ہمارے گرد و پیش پھیلا ہوا ہے اور جس کا ایک جزو ہم خود ہیں، دراصل ایک بادشاہ کی سلطنت ہے۔ اسی نے اسے بنایا ہے ،وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا واحد حاکم ہے۔ اس سلطنت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ سب کے سب تابع فرمان ہیں اور اختیارات بالکلیہ اسی ایک مالک و فرماں روا کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان اس مملکت میں پیدائشی رعیت ہے۔ یعنی رعیت ہونا یا نہ ہونا اس کی مرضی پر موقوف نہیں ، بلکہ یہ رعیت ہی پیدا ہوا ہے اور رعیت کے سوا کچھ اور ہونا اس کے امکان میں نہیں ہے۔ اس نظامِ حکومت کے اندر انسان کی خود مختاری و غیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہیں ، نہ فطرتاً ہو سکتی ہے۔ پیدائشی رعیت اور ایک جزوِ مملکت ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے کہ جس طرح مملکت کے تمام اجزا بادشاہ کے امر کی اطاعت کر رہے ہیں اسی طرح یہ بھی کرے۔ یہ خود اپنے لیے طریق زِندگی وضع کرنے اور اپنی ڈیوٹی آپ تجویز کر لینے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ مالک الملک کی طرف سے جو ہدایت آئے اس کی پیروی کرے۔ اس ہدایت کے آنے کا ذریعہ وحی ہے اور جن انسانوں کے پاس وہ آتی ہے وہ نبی ہیں۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: ۴۔ اِسلاممکمل باب پڑھیں

بنیادی مواد جلد شامل کیا جائے گا۔

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔