نظامات · نظامِ معیشت
دیگر
مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔
نظامِ معیشت
حلال کمائی، سود کی ممانعت اور تجارت کے شرعی اصول۔
انسان کی معاشی زندگی کو انصاف اور راستی پر قائم رکھنے کے لیے اِسلام نے چند اُصول اور چند حدود مقرر کر دیے ہیں تا کہ دولت کی پیدائش ،استعمال اور گردش کا سارا نظام انھی خطوط کے اندر چلے جو اس کے لیے کھینچ دیے گئے ہیں۔ دولت کی پیداوار کے طریقے اور اس کی گردش کی صورتیں کیا ہوں؟ اِسلام کو اس سوال سے کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو مختلف زمانوں میں تمدن کے نشوونما کے ساتھ ساتھ بنتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا تعین انسانی حالات و ضروریات کے لحاظ سے خود بخود ہو جاتا ہے اِسلام جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام زمانوں اور حالات میں انسان کے معاشی معاملات جو شکلیں بھی اختیار کریں ان میں یہ اصول مستقل طور پر قائم رہیں اور ان حدود کی لازماً پابندی کی جائے۔
دیگر
بنیادی مواد جلد شامل کیا جائے گا۔
اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔
معاون کیلکولیٹرز
کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہےزکوٰۃ کیلکولیٹر
اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔
میراثِ کیلکولیٹر
ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔