مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ اسلام اور دورِ حاضر

عالمگیر انسانیت

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ اسلام اور دورِ حاضر

امن، انسانیت اور عصری مسائل پر اسلامی نقطہ نظر۔

یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے بے نیاز ہو کر جب اس کی دی ہوئی قوتوں سے کام لینا شروع کیا تو اپنی ہی جنس پر ظلم ڈھانے شروع کردئیے۔ جب سے انسان زمین پر موجود ہے اس وقت سے آج تک تمام حیوانات نے اتنے انسانوں کی جان نہیں لی ہے جتنی انسانوں نے صرف دوسری جنگ عظیم میں انسان کی جان لی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو فی الواقع دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ صرف اللہ ہی ہے جس نے انسان کی راہ نمائی اس باب میں کی ہے اور اپنے پیغمبروں کی وساطت سے انسانی حقوق کی واقفیت بہم پہنچائی ہے۔ درحقیقت انسانی حقوق متعین کرنے والا انسان کا خالق ہی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس خالق نے انسان کے حقوق نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «انسان کے بنیادی حقوق»، باب: بنیادی حقوق کا سوال کیوں؟مکمل باب پڑھیں

عالمگیر انسانیت

2 احادیث1 سیرت

احادیث

صحیح بخاری 13صحیح

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

صحیح بخاری 6013

… سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“

سیرتِ نبویؐ

یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہونا

ایک جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے۔ بتایا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے، تو فرمایا: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا» — کیا یہ انسان نہیں؟

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

اس میں پہلی بات یہ بتائی گئی کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے ہیں۔ یہ مختلف نسلیں، مختلف رنگ، مختلف زبانیں درحقیقت انسانی دنیا کے لیے کوئی معقول وجہ تقسیم نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ بتائی کہ ہم نے قوموں کی یہ تقسیم صرف تعارف کے لیے کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک برادری، ایک قوم اور ایک قبیلہ کو دوسرے پر کوئی فخر وفضیلت نہیں ہے کہ وہ اپنے حقوق تو بڑھا چڑھا کر رکھے اور دوسروں کے کم۔اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی یہ تفریقیں کی ہیں، شکلیں ایک دوسرے سے مختلف بنائی ہیں یا زبانیں ایک دوسرے سے الگ رکھی ہیں، تو یہ سب چیزیں فخر کے لیے نہیں ہیں بلکہ صرف اس لیے ہیں کہ باہم تمیز پیدا کر سکیں۔ اگر تمام انسان یکساں ہوتے تو تمیز نہ کی جا سکتی۔ اس لحاظ سے یہ تقسیم فطری ہے، لیکن دوسروں کے حقوق مارنے اور بے جا امتیاز برتنے کے لیے نہیں ہے۔ عزت وافتخار کی بنیاد اخلاقی حالت پر ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «انسان کے بنیادی حقوق»، باب: مساوات کا حقمکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔