مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ مقابلہ ادیان

سرمایہ داری

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ مقابلہ ادیان

دیگر ادیان کے ساتھ تقابلی مطالعہ، مشترکہ اقدار اور معروض اعتراضات کے جوابات۔

جزئیات و فروع سے قطع نظر، اُصولی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو انسان اور کائنات کے متعلق چار مابعدالطبیعی نظریے قائم ہو سکتے ہیں اور دُنیا میں جتنے دستورِ زِندگی پائے جاتے ہیں انھوں نے انھی چار میں سے کسی ایک کو اختیار کیا ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: زندگی کے چار نظریےمکمل باب پڑھیں

سرمایہ داری

دولت کو چند ہاتھوں میں سمٹنے اور جمع کر کے رکھنے سے قرآن روکتا ہے؛ اسلام کا معاشی نظام سرمایہ داری اور اشتراکیت کے بیچ ایک معتدل راستہ ہے۔

قرآنِ مجید

مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
جو کچھ بھی اللہ اِن بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسُول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسُول اور رشتہ داروں اور یتامٰی اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، جو کچھ رسُولؐ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رُک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
اے ایمان لانے والو، اِن اہلِ کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دردناک سزا کی خوشخبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

نظامِ سرمایہ داری کی بنیاد جس نظریے پر قائم ہے وہ صاف اور سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کمائے ہوئے مال کا تنہا مالک ہے۔ اس کی کمائی میں کسی کا کوئی حق نہیں۔ اس کو پورا اختیار ہے کہ اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے، جس قدر وسائل ثروت اس کے قابو میں آئیں ان کو روک رکھے اور اپنی ذات کے لیے کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر ان کو صرف کرنے سے انکار کر دے۔ یہ نظریہ اس خود غرضی سے شروع ہوتا ہے جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے اور آخرکار اس انتہائی خود غرضی تک پہنچ جاتا ہے جو انسان کی اُن تمام صفات کو دبا دیتی ہے جن کا وجود انسانی جماعت کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے۔ اگر اخلاقی نقطۂ نظر کو چھوڑ کر خالص معاشی نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس نظریے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تقسیم ثروت کا توازن بگڑ جائے، وسائل ثروت رفتہ رفتہ سمٹ کر ایک زیادہ خوش قسمت یا زیادہ ہوشیار طبقے کے پاس جمع ہو جائیں، اور سوسائٹی عملاً دو طبقوں میں تقسیم ہو جائے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «سود»، باب: نظام سرمایہ داریمکمل باب پڑھیں
اسلام ان دو متضاد معاشی نظاموں کے درمیان ایک معتدل نظام قائم کرتا ہے جس کا اصل الاصول یہ ہے کہ فرد کو اس کے پورے پورے شخصی و فطری حقوق بھی دیے جائیں اور اس کے ساتھ تقسیم ثروت کا توازن بھی نہ بگڑنے دیا جائے۔ ایک طرف وہ فرد کو شخصی ملکیت کا حق اور اپنے مال میں تصرف کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ ان سب حقوق اور اختیارات پر باطن کی راہ سے کچھ اخلاقی پابندیاں اور ظاہر کی راہ سے کچھ ایسی قانونی پابندیاں عائد کر دیتا ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ کسی جگہ وسائل ثروت کا غیر معمولی اجتماع نہ ہو سکے، ثروت اور اس کے وسائل ہمیشہ گردش کرتے رہیں اور گردش ایسی ہو کہ جماعت کے ہر فرد کو اس کا متناسب حصہ مل سکے۔ اس مقصد کے لیے اس نے معیشت کی تنظیم ایک اور ڈھنگ پر کی ہے جو اپنی روح، اپنے اصول اور اپنے طریق کار کے اعتبار سے سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے مختلف ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «سود»، باب: نظام اسلامیمکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔