مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ سیاست

شوریٰ

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ سیاست

خلافت، شوریٰ، عدل اور حکمرانی کے اسلامی اصول۔

اِسلام کے سیاسی نظام کی بنیاد تین اُصولوں پر رکھی گئی ہے۔ توحید، رسالت اور خلافت۔ اِن اُصولوں کو اچھی طرح سمجھے بغیر اسلامی سیاست کے تفصیلی نظام کو سمجھنا مشکل ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «اسلام کا نظام حیات»، باب: اِسلام کا سیاسی نظاممکمل باب پڑھیں

شوریٰ

اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے طے کرنا اہلِ ایمان کی صفت بتایا گیا ہے، اور نبی ﷺ کو بھی صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا۔

2 آیات1 احادیث2 سیرت

قرآنِ مجید

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
جو اپنے ربّ کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں،
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(اے پیغمبر ؐ )یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ۔ ورنہ  اگر کہیں تم  تُند خواور سنگ دل ہوتے تو یہ سب  تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے، ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں  ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو، پھر  جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔

احادیث

سنن ابو داؤد 5128صحیح · البانی

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے ۔

سیرتِ نبویؐ

حدیبیہ میں حضرت ام سلمہؓ کا مشورہ

صلحِ حدیبیہ کے بعد آپ ﷺ نے تین بار قربانی اور سر منڈوانے کا کہا مگر کوئی نہ اٹھا۔ حضرت ام سلمہؓ نے مشورہ دیا کہ آپ کسی سے کچھ کہے بغیر خود قربانی کر لیں اور بال منڈوا لیں؛ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور پھر سب نے آپ کی پیروی کی۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

امیر کے انتخاب میں ان تمام بالغ مردوں اور عورتوں کو رائے دینے کا حق ہو گا جو دستور کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہوں۔ انتخاب کی بنیاد یہ ہو گی کہ رُوحِ اِسلام کی واقفیت، اسلامی سیرت، خدا ترسی اور تدبر کے اعتبار سے کون شخص سوسائٹی کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا اعتماد رکھتا ہے۔ ایسے شخص کو امارت کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ پھر اس کی مدد کے لیے ایک مجلسِ شورٰی بنائی جائے گی اور وہ بھی لوگوں کی منتخب کردہ ہو گی۔ امیر کے لیے لازم ہو گا کہ ملک کا انتظام اہلِ شوریٰ کے مشورے سے کرے۔ ایک امیر اسی وقت تک حکم ران رہ سکتا ہے جب تک اسے لوگوں کا اعتماد حاصل رہے۔ عدمِ اعتماد کی صورت میں اسے جگہ خالی کرنا ہو گی مگر جب تک وہ لوگوں کا اعتماد رکھتا ہے اسے حکومت کے پورے اختیارات حاصل رہیں گے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «اسلام کا نظام حیات»، باب: اِسلام کا سیاسی نظاممکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔